menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hum Peeche Kyun Reh Gaye

19 0
14.06.2026

اک طبقہ کہتا ہے کہ انکم سپورٹ پروگرام کو بند کرکے 450 ارب روپے کی صنعتیں لگائی جائیں۔ یہ ادھوری معلومات پہ مبنی آدھا غلط اور آدھا ٹھیک مطالبہ ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ غربت کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات کی مد میں عالمی سطح پہ ڈونرز نے غریب خواتین کو کیش کی مد میں امداد دینے کا آغاز کیا تھا۔ اس کے 80 فیصد سے زائد ڈونرز غیر ملکی ہیں۔ اس پروگرام کے ذریعے بنگلہ دیشی خواتین کو کیش دینے کا آغاز کیا گیا تھا مگر چند سال پہلے بنگلہ دیش نے اس امداد کو شکریہ کے ساتھ لوٹا دیا کہ اب ہماری خواتین کو اس امداد کی ضرورت نہیں۔

بنگلہ دیش یہ اپنی صنعت اور صنعتی پیداوار میں خواتین کے کردار کی وجہ سے کر پایا۔ بھارت میں پچاس فیصد سے زائد خواتین کسی نہ کسی روزگار سے منسلک ہے۔ بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائیل صنعت بہت ترقی کر چکی ہے جب کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ مافیا اور انرجی کے بحران کے باعث انڈسٹریز بند ہو رہی تھیں۔ سیٹھ اپنے کارخانے اپنی فیکٹریاں بنگلہ دیش میں شفٹ کر رہے تھے‍۔

ہمیں سوچنا ہوگا کہ آخر کیسے 71 میں ہم سے ہی الگ ہونے والا بنگلہ دیش ہم سے آگے نکل گیا۔

میری سمجھ میں جو بنیادی دو وجوہات ہیں وہ اک تو مذہب کا ریاستی معاملات سے دور رکھنا دوسرا خواتین کو صنعتی پیداوار کا حصہ بنانا۔ ٹکے کی ویلیو والا ٹکہ آج پاکستانی روپے کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ پاکستانی سیٹھ سرمائے سمیت بنگلہ دیش شفٹ ہو چکے ہیں۔

ہم آج بھی اپنی اکڑ فوں اور........

© Daily Urdu