Governor Punjab Ke Naam Khula Khat
گورنر پنجاب کے نام کھلا خط
محترم و مکرمی گورنر صاحب!
آپکی توجہ پنجاب ملازمین کے اہم ایشوز کی جانب مبذول کروانے کی جسارت ہے آپ کے علم میں ہے، ریاست میں ایک نئی "بدعت" کا آغاز محکمہ جاتی ہاوسنگ سکیم کے قیام سے ہوا، نامی گرامی شعبہ جات واپڈا، پی آئی اے، ٹی این ٹی، ریلوے، وکلاء اور جسٹس اینڈ جرنلسٹس کالونی، ڈی ایچ اے، عسکری، بحریہ، فضائیہ کالونیاں ا یم ڈی اے، ایل ڈی اے، ایف ڈی اے، یونیورسٹی کالونی وغیرہ شامل ہیں، کہا جاتا ہے ملازمین کی فلاح و بہبود کے لئے ان کا قیام عمل میں لایا گیا، بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر رہائشی سہولیات کی فراہمی اور مکانات کی تعمیر کی ذمہ داری وفاقی اور صوبائی ہاوسنگ اینڈ پبلک ہیلتھ کے شعبہ جات کی تھی مگر وہ ذمہ داری پوری نہ کرسکے۔ یوں ہر سرکاری اور نیم سرکاری محکمہ نے اپنے ملازمین کے لئے رہائشی سکیم شروع کردیں، ارض وطن میں اگر کسی طبقہ کی کوئی کالونی یا رہائشی سکیم نہیں تو وہ اساتذہ کرام یا پھر دوسرے، تیسرے درجہ کے "ماتڑ" ملازمین ہیں۔
چوہدری پرویز الہی نے ایسے ہی ملازمین کی رہائشی مشکلات کو دیکھتے ہوئے، 2004 پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہاوسنگ فاونڈیشن قائم کی، ایکٹ کے تحت اس کی منظوری پنجاب اسمبلی سے لیتے ہوئے کہا کہ آنے کی حکومتیں من مانی نہ کر سکیں، یہ ایکٹ آج بھی موجود ہے، مگر اسکی حیثیت اب کاغذ کی سی ہے، سرکاری ملازمین جن کو اسکی ممبر شپ دی، ان کی تنخواہ سے ماہانہ سکیل وائز کٹوتی کا آغاز 2004 سے ہوا، تاکہ ریٹائرڈ منٹ پر انہیں گھر یا پلاٹ دیئے جائیں،........
