menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ullu Hamare Pas

24 0
04.06.2026

شفیق الرحمن نے اپنی کتاب مزید حماقتیں میں اُلّو کا جو تعارف کرایا ہے، وہ دراصل پرندوں کی دنیا کا تعارف کم اور انسانوں کی دنیا کا تعارف زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ بظاہر گفتگو اُلّو کے بارے میں ہے لیکن نشانہ وہ لوگ ہیں جو اپنی خاموشی، سنجیدگی، بے تکی دانشوری اور خود ساختہ وقار کے سہارے معاشرے میں عقل و فہم کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ یہی بڑے ادیبوں اور مزاح نگاروں کا کمال ہوتا ہے کہ وہ جانوروں، پرندوں اور اشیا کے پردے میں انسان کی اصل تصویر دکھا دیتے ہیں۔ قاری ہنستا بھی ہے اور ساتھ ہی اپنے گرد و پیش میں موجود کئی چہروں کو پہچان بھی لیتا ہے۔

شفیق الرحمن نے لکھا کہ اُلّو بردبار اور دانش مند ہے لیکن پھر اُلّو ہے۔ اس ایک جملے میں ایسی لطیف چوٹ موجود ہے جو انسانی کردار کے کئی پردے چاک کر دیتی ہے۔ دنیا میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جنہیں اپنی دانش پر بڑا ناز ہوتا ہے، جو ہر مجلس میں اپنے آپ کو عقل کا آخری مینار سمجھتے ہیں، لیکن ان کی تمام دانش کے باوجود ان کی زندگی، ان کے فیصلے اور ان کا رویہ انہیں بار بار اُلّو ثابت کر دیتا ہے۔ علم اور عقل یقیناً عظیم نعمتیں ہیں مگر جب ان کے ساتھ فروتنی نہ ہو تو یہی نعمتیں انسان کے لیے فریب بن جاتی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں خاموشی کو اکثر حکمت کا مترادف سمجھ لیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص کم بولتا ہو، چہرے پر سنجیدگی طاری رکھتا ہو اور مسکراہٹ سے پرہیز کرتا ہو تو لوگ فوراً اس کے گرد دانش کا ہالہ بنا دیتے ہیں۔ شفیق الرحمن نے اسی نفسیاتی کمزوری پر ہلکا سا طنزیہ وار کیا ہے کہ بہت سے........

© Daily Urdu