menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kasb e Kamal Kun: Baba Misri

10 0
yesterday

کسبِ کمال کُن: بابا مصری

كسب كمال كُن كہ عزيزِ جہان شوى كس بے كمال ہيچ نيرزد، عزيزِ من!

دیہات کی زندگی اپنے اندر ایک ایسی سادگی، کشادگی اور مانوس محبت رکھتی ہے جسے لفظوں میں پوری طرح قید کرنا شاید ممکن نہیں۔ وہاں انسان صرف انسان نہیں ہوتا، ایک پورا جہان ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ اس کی زمین جڑی ہوتی ہے، اس کے جانور جڑے ہوتے ہیں، اس کی روایات، اس کی مہمان نوازی، اس کی خاموشیاں اور اس کے دکھ سکھ سب ایک دوسرے میں یوں پیوست ہوتے ہیں جیسے مٹی میں خوشبو۔ ہمارے گاؤں کے انہی خوشبو دار کرداروں میں ایک روشن اور ناقابلِ فراموش نام بابا مصری کا تھا۔ وہ بابا پھتہ کے دوسرے فرزندِ ارجمند تھے۔ غیر معمولی ذہانت، بے مثال محنت، گہری بصیرت اور حد درجہ مہمان نوازی ان کی شخصیت کے بنیادی اوصاف تھے۔

اگر بابا پھتہ اپنی وسیع القلبی اور مہمان دوستی کے باعث پورے علاقے میں معروف تھے تو بابا مصری نے اس وصف کو گویا نئی وسعت عطا کر دی تھی۔ مہمان ان کے گھر دنوں نہیں بلکہ مہینوں قیام کرتے اور انہیں کبھی یہ احساس نہ ہوتا کہ وہ کسی دوسرے کے گھر میں موجود ہیں۔ بابا مصری ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتے جیسے اپنی اولاد کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ جب کوئی مہمان رخصت ہونے کی اجازت مانگتا تو بابا کی آنکھیں نم ہو جاتیں۔ ان کی مخصوص دیہاتی بولی میں محبت سے بھیگی ہوئی آواز بلند ہوتی، "او بھیڑیا جھلیا، کدے وینا، ٹِکا رو"۔ یہ الفاظ صرف روکنے کے لیے نہیں ہوتے تھے، یہ ایک محبت کرنے والے دل کی پکار ہوتی تھی۔ مہمان بھی ان کے اخلاص سے متاثر ہو کر اداس ہو جاتے۔ ان کی آواز بھرّا جاتی اور وہ کہتے، "بابا اب جانا ضروری ہے، کچھ کام بھی کرنے ہیں، پھر حاضر ہوں گے" اور یوں رخصتی کا وہ منظر کسی پرانے داستانی عہد کی طرح دل میں اتر جاتا۔

بابا مصری کی شخصیت کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی تھا کہ اس زمانے میں جب تقریباً ہر شخص کا کوئی نہ کوئی عرف، بگڑا ہوا نام یا دیہاتی تخلص ہوا کرتا تھا، بابا........

© Daily Urdu