Zindagi Kya Hai?
زندگی کیا ہے؟ شاید یہ وہ سوال ہے جو انسان نے پہلی بار شعور کی آنکھ کھولتے ہی خود سے پوچھا ہوگا۔ یہ سوال اتنا ہی قدیم ہے جتنا خود انسان۔ ہر بچہ جو دنیا میں آتا ہے، زندگی پاتا ہے، سانس لیتا ہے، رشتے بناتا ہے، خواب دیکھتا ہے، کامیابیاں سمیٹتا ہے، ناکامیوں کا سامنا کرتا ہے اور پھر ایک دن خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ لیکن اس سارے سفر کے دوران وہ بار بار ایک ہی سوال کی طرف لوٹتا ہے: زندگی کیا ہے؟
عجیب بات یہ ہے کہ اربوں انسان اس دنیا میں آئے، اپنی اپنی زندگیاں گزار کر چلے گئے، مگر اس سوال کا کوئی ایک جواب آج تک طے نہیں ہو سکا۔ ہر دور، ہر تہذیب اور ہر معاشرے نے اس کی الگ تشریح کی۔ کسی نے اسے امتحان کہا، کسی نے نعمت قرار دیا، کسی نے جدوجہد کا نام دیا اور کسی نے اسے محض ایک خواب سمجھا جو پلک جھپکتے ہی ختم ہو جاتا ہے۔ شاید زندگی کی خوبصورتی بھی اسی میں ہے کہ یہ کسی ایک تعریف میں قید نہیں ہوتی۔ یہ ہر انسان کے ساتھ ایک نئی شکل اختیار کر لیتی ہے اور ہر دل میں اپنا الگ مفہوم پیدا کرتی ہے۔
زندگی کے جتنے روپ ہیں، اتنے ہی اس کے بہروپ بھی ہیں۔ کبھی یہ بہار کی نرم ہوا کی طرح دل کو آسودگی دیتی ہے اور کبھی صحرا کی تپتی دوپہر بن کر انسان کی ہمت کا امتحان لیتی ہے۔ کبھی یہی زندگی انسان کو اتنی خوشیاں دیتی ہے کہ وہ شکرکے الفاظ ڈھونڈتا رہ جاتا ہے اور کبھی ایسے دکھوں سے آشنا کرتی ہے کہ آنکھوں سے خاموش آنسو بہنے لگتے ہیں۔ زندگی کی یہی رنگا رنگی اسے دل چسپ........
