Kasb e Kamal e Kun: Begum Baba Phatta
کسبِ کمال کُن: بیگم بابا پھتہ
كسب كمال كُن كہ عزيزِ جہان شوى كس بے كمال ہيچ نيرزد، عزيزِ من!
دیہات کی مٹی میں بعض ایسی عورتیں جنم لیتی ہیں جن کے نام تاریخ کی کتابوں میں نہیں آتے، مگر ان کی خاموش عظمت نسلوں کے مزاج میں اتر جاتی ہے۔ وہ خود سامنے نہیں آتیں لیکن ان کی تربیت، ان کی دعا، ان کی محنت اور ان کی خاموش قربانیاں آنے والے زمانوں میں انسانوں کی صورت چلتی پھرتی نظر آتی ہیں۔ میری پردادی "وڈی ما" بھاگ بھری بھی انہی عظیم عورتوں میں سے ایک تھیں۔ ان کا اصل نام بھاگ بھری تھا۔ شاید قسمت نے ان کے نام میں ہی ان کی زندگی کا خلاصہ رکھ دیا تھا۔ وہ واقعی برکتوں، دعاؤں، محبتوں اور خیر سے بھری ہوئی خاتون تھیں۔
میں انہیں کبھی دیکھ نہ سکا۔ میری پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے وہ اس دارِ فانی سے رخصت ہو چکی تھیں۔ مگر بعض لوگ اپنی موجودگی سے نہیں، اپنی روایت سے زندہ رہتے ہیں۔ وڈی ما بھی انہی لوگوں میں شامل تھیں۔ جب ہم نے ہوش سنبھالا تو ان کے قصے، ان کی دعائیں، ان کی سادگی، ان کی خاموش عظمت اور ان کے کردار کی خوشبو ہمارے اردگرد بکھری ہوئی تھی۔ لوگ جب بابا پھتہ کا ذکر کرتے تو احترام سے ان کا نام بھی لیتے۔ گویا دونوں ایک ہی داستان کے دو روشن باب تھے۔ ایک نے باہر کی دنیا سنبھالی، دوسرے نے گھر کی دنیا کو جنت بنایا۔ ایک نے مہمانوں کے لیے دروازے کھولے، دوسرے نے ان مہمانوں کے لیے اپنے ہاتھوں سے چولہا جلایا، بستر بچھائے اور دعاؤں کی چادر تانی۔
کہتے ہیں کہ ایک عظیم مرد کے پیچھے ایک عظیم عورت کھڑی ہوتی ہے۔ میں جب بابا پھتہ کی داستانیں سنتا ہوں تو بے اختیار وڈی ما بھاگ بھری کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے۔ آخر ایک انسان تنہا اتنی بڑی مہمان نوازی، اتنی خدمت، اتنی فراخ دلی اور اتنا وسیع ظرف........
