menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kasb e Kamal e Kun: Baba Phatta

23 0
06.06.2026

کسبِ کمال کُن: بابا پھتہ

كسب كمال كُن كہ عزيزِ جہان شوى كس بے كمال ہيچ نيرزد، عزيزِ من!

(ہنر اور قابليت حاصل كرو تاكه تم دنيا مين عزت اور قدر پا سكو، ميرے عزيز! بنر يا قابليت کی بغير انسان كى كوئى وقعت يا قيمت نہیں بوتى)۔

انسان مٹی سے بنتا ہے مگر اس کی اصل پہچان اس کے کردار سے ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اپنی زندگی کے چند برس اس دنیا میں گزار کر خاموشی سے رخصت ہو جاتے ہیں، لیکن ان کے کردار کی خوشبو نسلوں تک سفر کرتی رہتی ہے۔ میرے پردادا، جنہیں سب محبت سے "بابا پھتہ" کہتے تھے، بھی ایسے ہی لوگوں میں شامل تھے۔ ان کا اصل نام فتح خان تھا اور ان کے والد عبداللہ تھے۔ میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھا، کیونکہ وہ میرے اس دنیا میں آنے سے بہت پہلے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے تھے، مگر ان کا ذکر، ان کی شخصیت، ان کی محنت، سچائی، بہادری اور مہمان نوازی کے قصے ہمارے گھر کے ماحول میں یوں زندہ تھے جیسے وہ ابھی چند لمحے پہلے ہی کھیتوں سے ہل چلا کر واپس آئے ہوں۔ بزرگ جب ان کا تذکرہ کرتے تو ان کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آ جاتی۔ مجھے تب احساس ہوا کہ انسان مر جاتا ہے مگر اس کی نیکی، اس کا اخلاق اور اس کا رویہ نہیں مرتا۔ وہ نسلوں کے حافظے میں سانس لیتا رہتا ہے۔ شاید یہی قدرت کا سب سے خوبصورت انصاف ہے کہ اچھے لوگ وقت کی گرد میں گم نہیں ہوتے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے چراغ بن جاتے ہیں۔

بابا پھتہ کی زندگی کسی دیہاتی داستان کی طرح سادہ مگر باوقار تھی۔ ایک سرسبز وادی میں، پہاڑوں کے دامن میں ان کا ایک چھوٹا سا جھونپڑا تھا اور اس کے آس پاس خامشی ہی خامشی۔ شورش سے دور ایسا سکوت تھا جس پر تقریر یقیناً مر مٹے۔ ایک کچا کوٹھا، چند سایہ دار درخت، بے حساب سُریلے و رنگ برنگے پرندے، کچھ مویشی اور دور دور تک پھیلے ہوئے وسیع سرسبز و شاداب........

© Daily Urdu (Blogs)