menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Narasimha Rao Ka Muashi Model Aur Pakistan

24 0
latest

نرسیما راو کا معاشی ماڈل اور پاکستان

1991 میں بھارت کے نویں وزیر اعظم نرسیما راو نے حلف اٹھایا تو بھارت کی معیشت ڈوب چکی تھی۔ اس وقت بھارت کے خزانے میں صرف ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر موجود تھے جو دو ہفتہ کی درآمدات کے لئے بھی ناکافی تھے۔ نرسیما راو اور اس کے وزیر خزانہ منموہن سنگھ نے ایک مضبوط اور دیرپا معاشی ماڈل دیا جس کو معیشت میں لبرلائزیشن، پرائیویٹائزیشن اور عالمگیریت کا نام دیا گیا تھا۔ نرسیما راو نے سب سے پہلے کاروبار اور سرمایہ کاری کو لائسنس راج کے کٹھن مراحل سے آزاد کیا۔ اس وقت انڈیا میں کوئی بھی کاروبار اور سرمایہ کاری کرنے کے لئے لائسنس حاصل کرنے کے طویل اور مشکل مراحل سے گزرنا پڑتا تھا۔ نرسیما راو حکومت نے افسر شاہی کی بلاوجہ کی مداخلت کو ختم کرکے سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا اور سرمایہ کاری یا کاروبار شروع کرنے کے لیے آسان اور مختصر نظام متعارف کروایا۔

نرسیما حکومت نے بھارت کو براہ راست بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لئے کھول دیا اور دنیا بھر سے کمپنیوں نے بھارت میں سرمایہ کاری شروع کردی جس سے ناصرف ٹیکنالوجی کے میدان میں بلکہ مجموعی پیداورا کے حوالے سے بھی بھارت میں بڑی ترقی ہوئی اور روزگار کے بے تحاشا مواقع پیدا ہوئے جس سے بھارتی معیشت کو بڑا سہارا ملا۔

تیسرا اہم قدم نجکاری کے عمل کو شروع کرکے کیا گیا اور پرائیویٹ سیکٹر کو ایسے کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے کی حوصلہ افزائی کی جہاں پہلے ہی حکومتی اداروں کی اجارہ داری تھی۔ ان محکموں کے شیئر پبلک کو بیچ کر پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ نرسیما راو کی حکومت کے اقدامات نے آج انڈیا کو دنیا کی بڑی معیشت بنا دیا ہے اور اس دور کو بھارت کی ماڈرن ترقی کا اہم موڑ قرار دیا جاتا ہے اور نرسیما راو کو بھارت کی معیشت کا بانی کہا جاتا ہےکیونکہ ان فیصلوں سے وہ بھارت اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا........

© Daily Urdu