Hero Ya Villain?
میرے دوست انجم کاظمی کا کہنا ہے بہتر ہوتا گروپ کیپٹن عاصم اس لڑکے کو لڑکی کے ساتھ زبردستی کرتے دیکھ کر خود روکنے کی بجائے پولیس کو کال کرتے۔
اگرچہ دنیا کے مہذب معاشروں میں یہی کچھ ہوتا ہے اور وہاں پولیس چند منٹس میں رسپانڈ کرتی ہے اور وہاں عام لوگوں کا اعتبار اپنے اداروں پر بہت زیادہ ہے۔
دراصل یہ ایک لمحہ ہوتا ہے جب ایسے واقعات ہوتے دیکھ کر آپ بے ساختہ رک کر مداخلت کرتے ہیں یا نظر انداز کرکے گزر جاتے ہیں اور تھوڑی دیر کے بعد بھول جاتے ہیں۔
آپ کو کوئی انسان کمزور یا مظلوم لگتا ہے اور انسانوں کے اندر فطری جذبہ ہوتا ہے کہ وہ مظلوم یا کمزور کے لیے جذبات محسوس کرتے ہیں اور اس کی مدد کی کوشش کرتے ہیں۔
یہی کچھ گروپ کیپٹن عاصم نے بے ساختہ کیا جب ایک لڑکی کو سرعام مشکل میں پایا۔
ابھی چند دن پہلے اٹلی میں ایک پاکستانی نوید اسلم نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر دو........
