Bhutto Aur Imran Khan: Kino Ko Saib Sabit Karne Ki Koshish
بھٹو اور عمران خان: کینو کو سیب ثابت کرنے کی کوشش
ایک مرتبہ دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیں۔ چین میں ماؤزے تنگ اور چو این لائی موجود تھے، امریکہ میں رچرڈ نکسن عالمی سیاست کے بڑے کھلاڑی تھے، سعودی عرب میں شاہ فیصل مسلم دنیا کی ایک توانا آواز تھے، لیبیا میں کرنل معمر قذافی، مصر کی سیاست میں جمال عبدالناصر کی میراث، شام میں حافظ الاسد اور بھارت میں اندرا گاندھی جیسے طاقتور رہنما موجود تھے۔ دنیا سرد جنگ کی لپیٹ میں تھی، امریکہ اور سوویت یونین ایک دوسرے کے مقابل کھڑے تھے، چین اپنی عالمی حیثیت مستحکم کر رہا تھا اور مسلم دنیا اپنے سیاسی مستقبل کے لیے نئے راستے تلاش کر رہی تھی۔ یہ معمولی لوگوں کا زمانہ نہیں تھا، یہ تاریخ کے بڑے کرداروں کا زمانہ تھا۔
اب اس منظر میں پاکستان کو دیکھیے۔ ایک ایسا ملک جو 1971ء میں دولخت ہو چکا تھا، جس کی فوج جنگ ہار چکی تھی، جس کی قومی نفسیات زخمی تھی اور جس کے ہزاروں فوجی بھارت کی قید میں تھے۔ اس شکست خوردہ ملک کی قیادت ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں آئی جو عالمی رہنماؤں کے سامنے بیٹھ کر پاکستان کی بات کرتا تھا، بڑی طاقتوں کے مفادات کو سمجھتا تھا اور مسلم دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا خواب دیکھتا تھا۔ اس شخص کا نام ذوالفقار علی بھٹو تھا۔
اب ذرا آج کے پاکستان میں واپس آئیے۔ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے کے بعد سوشل میڈیا پر عمران خان اور ذوالفقار علی بھٹو کا تقابل کیا جا رہا ہے۔ کوئی عمران خان کی مقبولیت کو بھٹو صاحب کے برابر قرار دے رہا ہے، کوئی دونوں کے سیاسی انجام میں مماثلت تلاش کر رہا ہے اور کوئی یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ عمران خان بھی بھٹو صاحب کی طرح تاریخ کے عظیم رہنما ہیں۔ عمران خان کی مقبولیت سے انکار نہیں، ان کی کرکٹ کی شہرت بھی حقیقت ہے، ان کا وزیراعظم بننا بھی ایک تاریخی واقعہ ہے اور ان کی فین فالوونگ بھی غیرمعمولی ہے، لیکن ان تمام باتوں کے باوجود بھٹو صاحب اور عمران خان کا موازنہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کینو کو سیب ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔
کینو بھی اچھا پھل ہے اور سیب بھی، دونوں کی اپنی خوبیاں ہیں، مگر دونوں کی پہچان الگ ہے۔ مسئلہ کینو یا سیب کے اچھا یا برا ہونے کا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ آپ ایک چیز کی خوبیوں کو دوسری چیز کی شناخت بنا کر پیش نہیں کر سکتے۔ سیاست میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ شہرت الگ چیز ہے، مقبولیت الگ چیز ہے، اقتدار الگ چیز ہے اور عالمی قیادت الگ چیز ہے۔
عمران خان نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ شہرت میں گزارا۔ وہ پاکستان کے عظیم کرکٹ کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں، 1992ء کے ورلڈ کپ کے فاتح کپتان رہے،........
