menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kya Punjab Mein Baldiyati Election Ho Payen Ge?

31 0
06.10.2026

کیا پنجاب میں بلدیاتی الیکشن ہوپائیں گے؟

میں ایک عام شہری کی حیثیت سے روزانہ اپنے اردگرد کے لوگوں اور ووٹرز سے ملتا ہوں۔ میری ہمیشہ یہ عادت رہی ہے کہ گلی محلوں اور خاص طور پر علاقے کے چائے کے ڈھابوں پر بیٹھ کر عوام سے گفتگو کرتا ہوں اور ان کے دل کا حال جاننے کی کوشش کرتا ہوں۔ جب میں ان ڈھابوں پر گرما گرم چائے کے پیالوں کے گرد جمع محنت کشوں، دکانداروں اور عام شہریوں کی بیٹھک کا حصہ بنتا ہوں، تو ان کی گفتگو سے بڑھ کر ان کے چہروں کے تاثرات کو دیکھتا ہوں۔ ان چہروں پر اس وقت جو مایوسی، معاشی تھکن اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف بے بسی کے تاثرات واضح دکھائی دیتے ہیں، مقتدر حلقے ان کو سمجھنے سے بالکل قاصر ہیں۔

ہمارے علاقے میں عوام کا پارہ دیکھنے میں کچھ اور، لیکن اندرونی طور پر کچھ اور ہی کہانی سنا رہا ہے۔ ظاہری سطح پر شاید وہ روایتی گہما گہمی نہ ہو، لیکن زمینی حقائق اصل حکام کے دعوؤں سے یکسر مختلف ہیں۔ لوگ کمر توڑ مہنگائی کی وجہ سے موجودہ حکومت سے اندر ہی اندر شدید نالاں ہیں اور اس غصے کا اظہار وہ کسی جلسے جلوس میں نہیں، بلکہ اپنے ووٹ کی طاقت سے کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وہ خاموش لاوا ہے جس سے خوفزدہ ہو کر پنجاب کی حکمران جماعت کے کچھ مقامی لیڈران اب اپنے بند کمروں کے اجلاسوں میں عوام میں پذیرائی نہ ہونے کا رونا رو رہے ہیں۔ حکمران جماعت کا یہی اندرونی خوف آج پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

میری خود علاقے کے کئی مقامی لیڈروں سے بات ہوئی ہے جو اب برملا اس تشویش ناک حقیقت کا اظہار کر رہے ہیں کہ موجودہ حکومتی پالیسیوں، خاص طور پر کمر توڑ معاشی اقدامات سے عوام سخت خفا ہے اور اگر یہی حالات رہے تو اگلا ووٹ ان کے ہاتھ سے چھن سکتا ہے۔ پنجاب کی حکمران جماعت کے یہ مقامی رہنما اگرچہ یہ دعویٰ ضرور کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے پنجاب بھر میں ریکارڈ ترقیاتی کام کروائے ہیں، سڑکیں بنوائیں اور انفراسٹرکچر کو بہتر کیا ہے، لیکن وہ خود یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ ان تمام کاموں کے باوجود عوام کا ذہن........

© Daily Urdu