Iraq Se Americi Inkhila Ke Baad Kya?
عراق سے امریکی انخلاء کے بعد کیا؟
امریکا ایران جنگ کے شور اور شعلوں میں یہ خبر ثانوی سی بن کر رہ گئی۔ گزشتہ ہفتے 23 سال بعد بالآخر آخری امریکی فوجی عراق کی سرزمین سے نکل گیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس 23 سالہ خون آشام عرصے نے دنیا، امریکا اور خود عراقی عوام کو کیا دیا؟
اس خونیں عذاب کا آغاز 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد ہوا۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے یہ ہولناک الزام لگایا کہ صدام حسین کے پاس کیمیائی اور حیاتیاتی "تباہ کن ہتھیار" (WMDs) موجود ہیں جو دنیا کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں (امریکا ایران جنگ کی کہانی میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا الزام ہے) جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس تھے اور وقت نے ثابت بھی کیا۔ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں، ہانس بلکس اور محمد البرادعی نے بار بار واضح کیا کہ انھیں عراق میں کسی قسم کے ایٹمی پروگرام یا کیمیائی ہتھیاروں کے ثبوت نہیں ملے۔
امریکی وزیرِ خارجہ کولین پاول نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جعلی تصاویر اور آڈیو ٹیپس کے ذریعے ان الزامات کی سچائی کا ڈھنڈورا پیٹا، جسے بعد میں خود انھوں نے اپنی زندگی کا "بدنما داغ" تسلیم کیا۔ دوسری طرف برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے اپنی پارلیمنٹ میں ایک "ڈوزیئر" پیش کیا، دعویٰ کیا گیا کہ صدام حسین صرف 40 منٹ کے نوٹس پر اپنے ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔
تاہم کولین پاول کے بعدازوقت اعتراف اور برطانوی جھوٹ کا پول کھلنے کے باوجود ان........
