Aurat Ke Makar
عورت کے بارے میں دنیا کی تقریباً ہر تہذیب میں مختلف تصورات پائے جاتے ہیں۔ کہیں اسے محبت اور وفا کی علامت سمجھا گیا اور کہیں اسے فریب اور مکر کا پیکر قرار دیا گیا۔ ہمارے معاشرے میں بھی یہ جملہ عام سننے کو ملتا ہے کہ عورت کے پاس مکرکے بے شمار ہتھیار ہوتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ اپنی ذہانت اور نفسیاتی مہارت سے دوسروں کو اپنی مرضی کے مطابق چلا لیتی ہے۔ بعض افراد تو یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ عورت کی چالاکی مرد کی عقل پر بھاری پڑ جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی عورت مکر باز ہوتی ہے یا یہ صرف ایک سماجی تصور اور صدیوں پرانا افسانہ ہے؟
قدیم قصوں اور حکایتوں میں عورت کے مکر کا ذکر بکثرت ملتا ہے۔ مشرقی ادب میں ایسی کئی کہانیاں موجود ہیں جن میں عورت کو نہایت ذہین اور موقع شناس دکھایا گیا ہے۔ فارسی ادب کے معروف بزرگ شیخ سعدی کے حوالے سے بھی عورت کے مکر کا ایک مشہور قصہ بیان کیا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق ایک شخص اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا تھا مگر بیوی اسے دھوکا دیتی رہی۔ جب شوہر کو حقیقت کا علم ہوا تو اس نے بیوی سے باز پُرس کی۔ عورت نے ایسی مہارت سے بات کا رخ بدلا اور ایسے دلائل دیے کہ شوہر اپنی آنکھوں دیکھی حقیقت پر بھی شک کرنے لگا۔ اس حکایت کا مقصد یہ بتانا تھا کہ بعض اوقات انسان جذبات اور زبان کی چالاکی کے سامنے اپنی عقل کھو بیٹھتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک ادبی........
