menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mabood: Aqeedat Ke Gulab, Aziyat Ke Khaar

10 0
yesterday

"معبود": عقیدت کے گلاب، اذیت کے خار

اردو شاعری میں محبت ایک ایسا موضوع ہے جس نے ہر دور کے شاعر کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے، لیکن بڑے شاعر کی انفرادیت اس بات میں مضمر ہوتی ہے کہ وہ ایک مانوس جذبے کو اپنے تجربے، احساس اور تخلیقی شعور سے نئی معنویت عطا کرتا ہے۔ احمد فراز کی شاعری میں محبت محض حسن کی ستائش، وصال کی آرزو یا ہجر کی داستان نہیں، بلکہ انسانی شخصیت کی پیچیدگیوں، رشتوں کے تضادات، خودداری کے تقاضوں اور احساسِ ذات کی بیداری سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔ ان کے شعری مجموعے "دردِ آشوب" میں شامل نظم "معبود" اسی اعتبار سے اہم ہے کہ اس میں شاعر نے محبت، فن، عقیدت اور انسانی رویوں کے باہمی تعلق کو ایک درد انگیز اور فکر انگیز انداز میں پیش کیا ہے۔ نظم بظاہر محبوب سے مکالمہ ہے، لیکن اس کی معنوی وسعت ایک ایسے فن کار کے داخلی تجربے تک پھیل جاتی ہے جو اپنی تخلیقی اذیت کو محسوس کرتا ہے اور اس بات سے بھی آگاہ ہے کہ دنیا اکثر فن کار کی شخصیت سے زیادہ اس کے فن کی دل دادہ ہوتی ہے۔

نظم کا عنوان "معبود" اپنے اندر غیر معمولی معنوی وسعت رکھتا ہے۔ معبود اس ہستی کو کہتے ہیں جس کی عبادت کی جائے، لیکن شاعری میں یہ لفظ اس محبوب یا شخصیت کی علامت بھی بن سکتا ہے جسے غیر معمولی عقیدت کا مرکز بنا لیا جائے۔ احمد فراز نے اس لفظ کو ایک ایسے تناظر میں برتا ہے جہاں محبوب، فن کار اور اس کے پرستاروں کے درمیان تعلق کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں۔ یہاں معبود ہونا بظاہر ایک بلند مرتبہ ہے، مگر اس مرتبے کے ساتھ تنہائی، بے اعتنائی اور زوال کا امکان بھی وابستہ ہے۔ شاعر اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ عقیدت کے بلند ترین مقام پر فائز ہونے والا شخص بھی بالآخر انسانی کمزوریوں، دکھوں اور زمانے کے بدلتے ہوئے رویوں سے محفوظ نہیں رہتا۔

نظم کا آغاز محبت اور عقیدت کے حسین امتزاج سے ہوتا ہے:

بہت حسیں ہیں تیری عقیدتوں کے گلاب حسین تر ہے مگر ہر گلِ خیال ترا

ہم ایک درد کے رشتے میں منسلک دونوں تجھے عزیز مرا فن، مجھے جمال ترا

ان اشعار میں شاعر نے عقیدت کے گلابوں اور محبوب کے جمال کو ایک لطیف استعاراتی فضا میں پیش کیا ہے۔ گلاب حسن، تازگی اور محبت کی علامت ہے، جب کہ گلِ خیال تخیل کی اس دنیا کی نمائندگی کرتا ہے جس میں محبوب کی شخصیت ایک نئے حسن کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ شاعر تسلیم کرتا ہے کہ مخاطب کی عقیدت اپنی جگہ دل کش ہے، لیکن اس کے خیال میں محبوب کا جمال اس سے بھی زیادہ حسین ہے۔ یوں ظاہری عقیدت اور داخلی تصورِ حسن کے درمیان ایک لطیف تقابل پیدا ہوتا ہے۔

تیسرے اور چوتھے مصرعے میں نظم کی معنوی جہت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دونوں ایک درد کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں، مگر ان کی پسند اور ترجیحات مختلف ہیں۔ مخاطب کو شاعر کا فن عزیز ہے، جب کہ شاعر خود مخاطب کے جمال سے وابستہ ہے۔ اس فرق میں ایک گہری نفسیاتی حقیقت پوشیدہ ہے۔ بعض اوقات دو انسان ایک دوسرے سے وابستہ ہونے کے باوجود ایک دوسرے کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اہمیت دیتے ہیں۔ ایک کے لیے دوسرے کی تخلیقی صلاحیت، شہرت یا فکری عظمت کشش کا باعث ہوتی ہے، جب کہ دوسرا اس کی شخصیت، حسن یا باطنی کیفیت سے متاثر ہوتا ہے۔

یہاں "ایک درد کے رشتے" کی ترکیب خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ درد بظاہر اذیت اور محرومی کی علامت ہے، لیکن شاعر اسے ایک ایسے رشتے کی بنیاد بناتا ہے جو دو مختلف دنیاؤں کو ایک دوسرے سے مربوط کرتا ہے۔ یہ درد محبت کا بھی ہو سکتا ہے اور فن........

© Daily Urdu