menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Shikarpur Ka Tazia Aur Thelay Walay Biscuit

23 0
09.08.2026

شکارپور کا تعزیہ اور ٹھیلے والے بسکٹ

محرم الحرام میں زندگی کا پہلا تعزیہ شکار پور میں دیکھا تھا کیا ہی خوبصورت، گلاب کے پھولوں سے بنا ہوا، معطر، غمگین اور بارعب۔ اب ہم شکار پور میں کیوں تھے اسکے لئے آپکو ایک پرانی تحریر "میں پیاری بھی تو نہیں ہوں ناں" پڑھنی پڑے گی۔

کراچی سے ہمارے دادا نے کچھ ضروری کتب اور کاغذات شکار پور میں رہائش پذیر "مولانا یاسین" کے گھر بھیجنے تھے۔ مولانا یاسین شکار پور میں جماعت اسلامی کے ناظم تھے۔

جب وہ سامان سکھر ہمارے گھر پہنچا تو ابو نے وہ چاچا سومرو کو دے دیا کہ کوئی شکار پور جا رہا ہو تو بجھوا دینا، لیکن چاچا سومرو بضد ہو گئے کہ ہم خود ہی چلتے ہیں کیونکہ محرم کی چھٹیاں آ رہی ہیں گھر میں بیٹھ کر بور ہونگے۔

میری اماں ان دنوں پریگنیٹ تھیں، یعنی ہمارا تیسرا اور آخری بھائی دنیا میں آنے والا تھا اور اماں ہم سب سے بیزار ہوئی بیٹھی تھیں اسی لئے اماں نے ہم دونوں بچوں کو ابا کے ساتھ کر دیا اور بہت ساری ہدایات بھی ہمارے شریر کانوں میں انڈیلیں۔

ہم دونوں بہن بھائی خوشی خوشی سومرو چاچا کی گاڑی میں شکارپور پہنچ گئے، پہلے مولانا یاسین کے گھر پہنچے۔

جہاں ہم کو پروٹوکول دیا گیا لیکن پلیٹ میں جو بسکٹ تھے وہ والے تھے جو ایک بار میں نے سکھر کے مینار والے بازار میں ٹھیلے پر فروخت ہوتے دیکھے تھے اور ابو سے کہا تھا یہ ٹیسٹ کرکے دیکھیں، لیکن ہمارے ابا کا یہ خبط ہے کہ انہوں نے چاہے کراچی ہو، لاہور ہو، مری ہو، سکھر ہو، استنبول ہو، یا لندن۔

کبھی بھی کسی ٹھیلے یا ڈھابے نما جگہ سے کوئی بھی شے ہم کو لے کر نہیں کھلائی۔ بقول انکے کہ صاف نہیں ہیں اور مضر صحت ہیں، اسی وجہ سے میں نے آج تک کراچی کا انڈے والا برگر نہیں کھایا ہے۔ نہ ہی ہم لوگوں کو چاٹ........

© Daily Urdu (Blogs)