Falkiyat Ki Tareekh (5)
اب تک کی گفتگو ہمیں ایسے دور تک لے آئی ہے جہاں انسان آسمان کا باقاعدہ مشاہدہ تو کر رہا تھا، لیکن اس کے پاس اپنے علم کو محفوظ رکھنے کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں تھا۔ ایک نسل اپنے تجربات اگلی نسل تک زیادہ تر زبانی روایت کے ذریعے پہنچاتی تھی۔ اس لئے ابتدائی دور کی معلومات محدود ہیں اور ان کا زیادہ تر انحصار آثارِ قدیمہ پر ہے۔ فلکیات کی تاریخ میں اصل تبدیلی اس وقت آئی جب انسان نے لکھنا سیکھ لیا۔
تقریباً 3500 سے 3000 قبل مسیح کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کے اس خطے میں، جسے آج میسوپوٹیمیا کہا جاتا ہے، تحریر کا ابتدائی نظام وجود میں آیا۔ یہ علاقہ موجودہ عراق اور اس کے اردگرد کے علاقوں پر مشتمل تھا، جہاں دریائے دجلہ اور فرات کے درمیان متعدد شہر آباد ہوئے۔ سومر، اُوروک، اُور اور لاگش جیسے شہروں سے انسانی تاریخ کے قدیم ترین تحریری ریکارڈ ملتے ہیں۔ ابتدا میں تحریر کا مقصد مذہبی کتابیں لکھنا یا........
