ایک "بگھی" کی بدولت ...
وفاقی کابینہ کے مؤثر ترین وزیر داخلہ جناب محسن نقوی نے چند ہفتے قبل سرمایہ کاروں کی ایک تقریب سے خطاب فرمایا۔ اس کے دوران بندوبستِ حکومت کے حالتِ نزع میں پہنچ جانے کا اعلان کردیا۔ اس کے احیاء کے لئے نئے صوبوں یا چھوٹی انتظامی اکائیوں کے قیام کی تجویز دی۔ ان کی تجویز کو ریاست کے طاقتور ادارے کا پیغام سمجھتے ہوئے ریگولر اور سوشل میڈیا پر چھائے بے شمار ذہن سازوں نے چھوٹے صوبوں کے قیام کے فضائل بیان کرنا شروع کردئیے۔ یہ طے کرلیا کہ چھوٹے صوبے اب بن کے رہیں گے، اپنا نام چمکانے لگے۔ چند سیانوں نے مگر نقارچیوں کی صف میں شامل ہونے کے بجائے بندوبستِ حکومت کو عوام کی بھلائی کے لئے زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے کے لئے افلاطون کی طرح ’’جمہوریہ‘‘ کی تشکیل کے نسخے فراہم کرنا شروع کردئیے۔حکومتی خدمات کو ’’عوام کی دہلیز‘‘ تک پہنچانے کے نسخے دریافت کرنے کو بے چین دورِ حاضر کے افلاطون ہمارے خطے کی تاریخ سے قطعاََ غافل نظر آئے۔ یہ بھول گئے کہ ہماری تاریخ میں حکومتوں کو جوابدہ بنانے کی روایت کبھی موجود نہیں رہی۔ سات سمندر پار سے آئے برطانیہ سے قبل کم ازکم آٹھ سو سال تک وسطی ایشیاء کے دلاور ہمارے حکمران رہے تھے۔ عوام کو ہمیشہ انہوں نے رعایا ہی تصور کیا جن کے فرائض جی حضوری تھی اور حقوق سے محرومی تقدیر کا لکھا ٹھہرائی جاتی تھی۔دلاوروں میں سے چند نے اپنے ’’کارناموں ‘‘ سے بہت نام کمایا۔ شیر شاہ سوری کی بنائی جرنیلی سڑک کو آج........
