آنے والا کل ، اگر آج ...
دنیا اکثر ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوتی ہے جہاں وقت رک سا جاتا ہے فیصلے مؤخر ہوتے ہیں، بیانات جاری رہتے ہیں، اور سب کچھ بظاہر قابو میں لگتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جہاں تاخیر خود ایک خطرہ بن جاتی ہے۔ آج کی عالمی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ اگر آج فیصلہ نہ ہوا، تو آنے والا کل صرف غیر یقینی نہیں ہوگا وہ زیادہ سخت، زیادہ مہنگا، اور شاید زیادہ خطرناک ہوگا۔اسلام آباد اس وقت ایک خاموش مگر فیصلہ کن مرکز بن چکا ہے۔ یہاں ہونے والی بات چیت صرف سفارتی عمل نہیں بلکہ ایک امتحان ہے کہ کیا دنیا ابھی بھی تنازعات کو میز پر حل کر سکتی ہے یا نہیں ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشمکش کئی برسوں پر محیط ہے ، مگر موجودہ لمحہ خاص اس لیے ہے کیونکہ دونوں طرف دباؤ اپنی حدوں کو چھو رہا ہے۔اگر آج کسی معاہدے کی بنیاد نہ رکھی گئی، تو سب سے پہلا اثر اعتماد پر پڑے گا۔ مذاکرات کی ناکامی صرف ایک ڈیل کا نہ ہونا نہیں ہوتی، بلکہ یہ پیغام دیتی ہے کہ فریقین ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں کرتے۔ اس کے بعد ہر اگلا قدم زیادہ سخت، زیادہ جارحانہ اور کم لچکدار ہو جاتا ہے۔آبنائے ہرمز اس پوری کہانی میں ایک دھڑکتا ہوا نکتہ ہے۔ ابھی یہ مکمل طور پر بند نہیں، مگر اگر حالات بگڑتے ہیں تو یہی وہ مقام ہوگا جہاں سب سے پہلے اثر نظر آئے گا۔ تیل کی سپلائی میں رکاوٹ، جہاز رانی میں خطرہ، اور عالمی منڈیوں میں بے چینی یہ سب چند دنوں میں حقیقت بن سکتے ہیں۔ اور جب معیشت متاثر ہوتی ہے، تو اس کے اثرات عام آدمی تک پہنچنے میں دیر نہیں لگتی۔ایران کی حکمت عملی واضح ہے: وہ اس بار کسی بھی معاہدے کو محض وعدوں پر نہیں چھوڑنا چاہتا۔ عالمی ضمانت کا مطالبہ اسی سوچ کا حصہ ہے۔ ایران کے لیے یہ صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ بقا اور خودمختاری کا سوال ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ جو بھی طے ہو، وہ مستقل ہونہ کہ وقتی۔دوسری جانب امریکہ کا انداز مختلف ہے۔ وہاں طاقت کا مظاہرہ اور دباؤ ڈالنا پالیسی کا حصہ ہے۔ سخت بیانات، ممکنہ پابندیاں، اور فوجی آپشن کی جھلک،یہ سب مذاکرات کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اگر آج فیصلہ نہ ہوا، تو امکان ہے کہ یہی دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔سعودی عرب اس ساری صورتحال کو بڑی باریکی سے دیکھ رہا ہے۔ اس کا مفاد ایک مستحکم خطے میں ہے، مگر وہ ایران کو زیادہ مضبوط ہوتا بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں، تو سعودی پوزیشن مزید سخت ہو سکتی ہے خاص طور پر دفاعی اور سفارتی سطح پر۔بھارت کے لیے بھی یہ صورتحال معمولی نہیں۔ توانائی کی سپلائی میں کسی بھی خلل کا اثر اس کی معیشت پر براہ راست پڑتا ہے۔ اگر ہرمز میں مسئلہ بڑھتا ہے، تو بھارت کو متبادل راستے تلاش کرنے پڑیں گے، جو آسان یا سستے نہیں ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی تشویش حقیقی ہے، چاہے میڈیا اسے کسی بھی انداز میں پیش کرے۔ٹرمپ کا کردار اس منظرنامے میں غیر معمولی ہے۔ ان کا انداز ہمیشہ واضح اور سخت رہا ہے۔ اگر آج کوئی پیش رفت نہ ہوئی، تو ان کے بیانات مزید سخت ہو سکتے ہیں، اور عملی اقدامات کا امکان بھی بڑھ سکتا ہے۔ مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ زیادہ دباؤ کبھی کبھی نتائج کے بجائے ردعمل پیدا کرتا ہے۔اسلام آباد میں ہونے والی تیاریوں، ممکنہ دوروں، اور سکیورٹی اقدامات کے بارے میں بہت سی باتیں گردش کر رہی ہیں۔ ان میں سے کچھ سچ ہو سکتی ہیں، کچھ نہیں۔ مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ جب حالات حساس ہوتے ہیں، تو معلومات بھی دھندلی ہو جاتی ہیں۔ اس لیے ہر خبر کو احتیاط سے دیکھنا ضروری ہے۔ اگر آج فیصلے نہ ہوئے، تو کل کے چند ممکنہ منظرنامے سامنے آ سکتے ہیں:پہلا: مذاکرات تعطل کا شکار ہو جائیں گے اور دونوں فریق اپنی اپنی پوزیشن مزید سخت کر لیں گے۔ اس سے کشیدگی بڑھے گی اور کسی بھی چھوٹے واقعے کے بڑے تصادم میں بدلنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔دوسرا: معاشی دباؤ بڑھے گا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی منڈیوں میں غیر یقینی، اور سرمایہ کاری میں کمی یہ سب عالمی سطح پر اثر انداز ہوں گے۔تیسرا: علاقائی اتحاد مضبوط ہوں گے۔ ممالک اپنے اپنے بلاکس میں مزید واضح طور پر کھڑے ہو جائیں گے، جس سے عالمی تقسیم گہری ہو سکتی ہے۔چوتھا: سفارت کاری کے دروازے مکمل بند نہیں ہوں گے، مگر وہ تنگ ہو جائیں گے۔ ہر اگلا مذاکراتی مرحلہ زیادہ مشکل اور پیچیدہ ہو گا یہ سب کچھ ناگزیر نہیں مگر ممکن ضرور ہے۔اسی لیے آج کا دن اہم ہے۔ فیصلے ہمیشہ آسان نہیں ہوتے، مگر ان کی عدم موجودگی کبھی کبھی زیادہ مہنگی پڑتی ہے۔ دنیا اس وقت ایک ایسے مقام پر ہے جہاں ایک مثبت قدم بہت کچھ بدل سکتا ہے، اور ایک ناکامی بہت کچھ بگاڑ سکتی ہے۔ آنے والا کل ابھی لکھا نہیں گیا۔ مگر یہ ضرور ہے کہ آج کے فیصلے اس کی سمت طے کریں گے۔ اور اگر آج خاموشی رہی، تو کل شاید شور زیادہ پاکستان کا کردار اور عاصم منیر کی اہمیت ایک فیصلہ کن پہلو اس پوری صورتحال میں پاکستان محض ایک میزبان نہیں بلکہ ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اس بات کی علامت ہیں کہ عالمی طاقتیں اب ایسے ممالک کی طرف دیکھ رہی ہیں جو بیک وقت مختلف فریقین کے ساتھ بات چیت کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ پاکستان کی یہی سفارتی پوزیشن اسے اس بحران میں غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اس وقت اس کی متوازن خارجہ پالیسی ہے۔ ایک طرف اس کے امریکہ کے ساتھ تعلقات ہیں، دوسری طرف ایران کے ساتھ جغرافیائی، مذہبی اور علاقائی روابط۔ یہی توازن اسے ایک ایسا پل بناتا ہے جو دو متحارب فریقین کو ایک میز پر لا سکتا ہے۔یہاں Munir Asim کا کردار خاص طور پر نمایاں ہو جاتا ہے۔ بطور آرمی چیف، ان کی پوزیشن صرف دفاعی معاملات تک محدود نہیں بلکہ وہ سکیورٹی، سفارت کاری اور اسٹریٹیجک استحکام کے درمیان ایک اہم رابطہ ہیں۔ ایسے حساس مذاکرات میں سکیورٹی کی یقین دہانی سب سے بنیادی شرط ہوتی ہے اور یہی وہ پہلو ہے جہاں ان کی قیادت براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔اسلام آباد میں کسی بھی اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے لیے: سکیورٹی کا فول پروف ہونا ضروری ہوتا ہے، غیر جانبداری کا تاثر قائم رکھنا ہوتا ہے اور ہر فریق کو اعتماد دینا ہوتا ہے کہ اس کی بات سنی جائے گییہ تمام عناصر ایک مضبوط ریاستی ڈھانچے کے بغیر ممکن نہیں اور یہاں عسکری و سول قیادت کا ہم آہنگ ہونا کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو: پاکستان کی عالمی ساکھ میں نمایاں اضافہ ہوگا، اسے ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر دیکھا جائے گا اور خطے میں اس کا کردار مزید مضبوط ہوگالیکن اگر ناکامی ہوتی ہے تو: پاکستان پر براہ راست الزام نہیں آئے گا مگر اس کے باوجود خطے کی کشیدگی کا اثر اس پر ضرور پڑے گا اسی لیے پاکستان کے لیے یہ صرف ایک سفارتی موقع نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک آزمائش بھی ہے۔ آخرکار، ایسے لمحات میں ممالک کی اصل طاقت صرف فوجی یا معاشی نہیں ہوتی بلکہ یہ ہوتی ہے کہ وہ تنازعات کو کم کرنے میں کتنا مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اور اس وقت، اسلام آباد اسی امتحان کے عین مرکز میں کھڑاہے۔
