Petrol Ki Qeemat Aur Awam Ki Bebasi
پٹرول کی قیمت اور عوام کی بے بسی
پاکستان میں پٹرول صرف گاڑی چلانے کا ذریعہ نہیں بلکہ عام آدمی کی روزمرہ زندگی کا ایک بنیادی حصہ بن چکا ہے۔ پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کا اثر صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ سبزی، دودھ، آٹا، اسکول، یونیورسٹی، دفتر، کاروبار اور روزمرہ سفر تک پہنچتا ہے۔ ایک عام شہری کے لیے پٹرول کی قیمت میں معمولی سا اضافہ بھی ماہانہ بجٹ کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ ایسے وقت میں جب پہلے ہی مہنگائی نے گھریلو اخراجات کو مشکل بنا رکھا ہو، ایندھن کی قیمت میں مسلسل اتار چڑھاؤ عوام کے لیے مزید پریشانی پیدا کرتا ہے۔
2026 کے دوران عالمی سطح پر تیل کے بحران اور خطے کی صورتحال نے پاکستان کے لیے بھی مشکلات بڑھائیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق سال کے آغاز میں پاکستان میں پٹرول کی قیمت تقریباً 250 سے 260 روپے فی لیٹر کے آس پاس تھی، جبکہ مارچ اور اپریل میں عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اپریل میں پٹرول کی قیمت تقریباً 458 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی۔ اس صورتحال نے واضح کر دیا کہ پاکستان جیسے درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ملک میں عالمی منڈی کا بحران براہِ راست عام شہری کی زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔
7 اگست 2026 کا دن اسی عوامی بے چینی کی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آیا۔ پٹرول کی قیمتوں اور پٹرولیم لیوی کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیاں اور مظاہرے ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، اسلام آباد، راولپنڈی اور ایبٹ آباد سمیت مختلف علاقوں میں لوگ سڑکوں پر نکلے۔ بعض مقامات پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی........
