menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Habib Jalib

18 0
thursday

لاہور شہر کبھی ثقافت، تہذیب اور شاعری کا مرکز تھا جو آج ایک ایسی خوابیدہ سی حقیقت لگتا ہے کہ خود شہر بھی اپنے وجود پر شک کرتا ہے۔ یہاں سبزہ زار ہاؤسنگ اسکیم ہے جو کبھی اپر مڈل کلاس کا خواب تھی۔ سبزہ زار موٹر وے، ملتان روڈ اور بند روڈ کے بیچ قید ایک ٹکڑا ہے جہاں راستے ٹوٹے ہوئے اور ہر قدم پر خواب کی بجائے ٹریفک کا شور اور نالے کی بدبو موجود ہے۔ اسی سبزہ زار میں ایک قبرستان ہے۔ شاہ فرید۔ جو ٹریفک، شور اور دھوئیں کے درمیان ایک خاموش جزیرہ معلوم ہوتا ہے۔ یہاں صوفی روایت بھی ہے اور لوک داستان بھی۔ اسی قبرستان کے ایک کونے میں عوام کا شاعر، حبیب جالب آسودۂ خاک ہے۔

یہ محض ایک شاعر کی قبر نہیں یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا زندہ استعارہ ہے۔ جالب اس لاہور کی آواز تھے جو طاقت کے بیانیے سے انکار کرتا رہا۔ وہ شہر جو ایوب خان کی آمریت کے خلاف بولتا رہا۔ جو ریڈیو........

© Daily Urdu