Ghair Mutawazan Nizam, Thaka Hua Muashra
زندگی میں توازن ہی وہ حکمت ہے جو انسان کو افراط و تفریط سے محفوظ رکھتی ہے۔ جب فکر و عمل، محنت و آرام اور خواہش و قناعت میں اعتدال ہو تو شخصیت نکھر جاتی ہے۔ درحقیقت توازن ہی ایک باوقار اور پُرسکون زندگی کی بنیاد ہے۔ کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہاں انسان کو بحیثیتِ انسان کس قدر اہمیت دی جاتی ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں کام اور تعلیم کے شعبوں میں توازن کا تصور مسلسل کمزور ہوتا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف ملازمین بلکہ طلبہ بھی ایسے دباؤ کا شکار ہیں جو رفتہ رفتہ ایک معاشرتی بحران کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ یہاں مسئلہ صرف طویل اوقاتِ کار یا تعلیمی دباؤ تک محدود نہیں رہا، بلکہ اصل بحران یہ ہے کہ محنت کا مناسب اور یقینی معاوضہ ایک غیر واضح، غیر محفوظ اور غیر یقینی شے بنتا جا رہا ہے۔ وہ تعلیم میں نمبرز اور گریڈز کی صورت ہو یا سرکاری ملازمین کی پنشن، گریجویٹی اور دیگر مراعات میں کٹوتی کی صورت۔ بددیانتی کا شاخسانہ ہے۔
پاکستان میں دفتری اوقاتِ کار بظاہر........
