Kitchen Gardening, Aik Khamosh Inqilab
کچن گارڈننگ، ایک خاموش انقلاب
ساجدہ کا تعلق چار سدہ سے ہے۔ شہر کے نزدیک ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ جہاں اپنے خاندان کے ساتھ مقیم ہے۔ ذاتی طور پر اس خاتون کے گاؤں جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ سچ تو یہ ہے کہ چارسدہ جیسے بڑے شہر میں بھی نہیں جا سکا۔ دراصل، لاہور ایک ایسا شہر بن چکا ہے جہاں آنے کے ہزاروں راستے ہیں مگر یہاں سے واپسی کا کوئی بھی راستہ نہیں ہے۔ بہرحال اس وقت لاہور شہر کے متعلق کچھ بھی لکھنا مقصود نہیں ہے۔ زیر بحث نکتہ ان پاکستانیوں کے متعلق مثبت بات کرنا ہے جن کی محنت اور نئی سوچ نے ایک خاموش انقلاب برپا کر دیا ہے۔
جن میں ہمارے بے ڈھنگے سیاست دانوں کا کسی قسم کا کوئی کردار نہیں ہے۔ ویسے خود کو اہم سمجھنے والے حکمرانوں کو کبھی قطعاً اندازہ نہیں ہوا کہ عام لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے کتنی نفرت ہے۔ بات ساجدہ کی ہو رہی تھی، اس بہادر بچی نے دیہات میں رہتے ہوئے خالی جگہ پر سبزیاں اگانے کے متعلق آگاہی حاصل کی۔ پھر ایک این جی او سے رابطہ کیا۔ جو کے پی، بلوچستان، اندرون سندھ اور پنجاب کے دیہی علاقوں میں خواتین کو مختلف کاموں کی فنی تربیت دیتی ہے۔ اس این جی او سے بلا معاوضہ کچن گارڈننگ کی عملی معلومات حاصل کیں۔
سنجیدگی سے، اس تربیت سے سیکھا۔ پھر اپنے گھرکے ساتھ، ایک خالی جگہ پر سبزیاں اگانے کا کام شروع کر دیا۔ ابتداء میں کافی مشکل پیش آئی۔ مگر مسلسل محنت اور لگن نے اس بہادر بچی کا کام آسان کر ڈالا۔ جس ادارہ نے اسے یہ ساری صلاحیت عطا کی، اس کا نام Braveہے۔ جو بنیادی طور پر فلاح و بہبود کا ایک پروجیکٹ ہے۔ ساجدہ کا کچن گارڈن، بھرپور طریقے سے کامیاب ہوگیا۔ بلکہ پورے علاقے کے لیے ایک مثال بن گیا۔ گھر میں استعمال ہونے والی سبزیاں، مکمل طور پر مفت ملنے لگیں۔ ساتھ ساتھ، اپنے چھوٹے سے کام کو، ایک معزز کاروبار میں بھی تبدیل کر دیا۔ لوگ اپنی ضرورت کے مطابق سبزیاں خریدنے لگے۔
ایک معمولی سے قدم سے، جو کہ ہرگز ہرگز معمولی نہیں ہے۔ ساجدہ کی خوش بختی کا در کھل گیا۔ آج وہ ایک مثال ہے۔ ادارے نے اس کی تصویر، نیٹ پر لگائی ہوئی ہے۔ جس میں ساجدہ نے بڑی سی سفید چادر پہن رکھی ہے۔........
