Jang Bandi Ke Baad Bhi Pakistan Ke Bad Khwahon Ke Waswasay
جنگ بندی کے بعد بھی پاکستان کے بدخواہوں کے وسوسے
چند روز قبل بھارت کے مفکر اعظم مشہور ہوئے وزیر خارجہ نے پاکستان کے بارے میں غیر سفارتی لہجہ اختیار کرتے ہوئے ایک بازاری لفظ ادا کیا تھا۔ مجھ بے وقوف کو اسی وقت سمجھ لینا چاہیے تھا کہ جے شنکر کی ہذیانی کیفیت خفت کا بھرپور اظہار ہے۔ وہ جان چکا ہے کہ مودی کی قیادت میں دنیا کا استاد اور دیگر ملکوں کو اپنے تئیں سفارتی اقدار سکھاتا بھارت خود کو "وشواگرو" ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایران پر حالیہ جنگ مسلط ہونے کے فقط دو دن قبل نریندر مودی اسرائیل کی پارلیمان سے خطاب کررہا تھا۔ اس خطاب کے بعد وہ ایران اور عرب ممالک کا اعتماد کھوبیٹھا۔ امریکی صدر ٹرمپ بھارت کے جارحانہ مزاج کو مئی 2025ء کی پاک-بھارت جنگ کے دوران ہی دریافت کرچکا تھا۔
ایسے حالات میں تمام تر معاشی مشکلات کے باوجود پاکستان نے ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو آزمائش میں ڈالتے ہوئے جنوبی اور مشرقی ایشیاء کے کروڑوں لوگوں کو تباہی، بربادی اور قحط سالی سے بچانے کے لئے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہ ہوتے ہوئے بھی جنگ بندی کی کاوشیں شروع کردیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے مجسم خودپسند ہوتے ہوئے بھی وزیر اعظم پاکستان کے قیام امن کے حوالے سے سوشل میڈیا کے ایکس (X)پلیٹ فارم پر لکھے ایک پیغام کو ری پوسٹ بھی کردیا۔ انتہائی تجربہ کار سفارت کار ہوتے ہوئے جے شنکر بھانپ گیا کہ پاکستان کی پرخلوص کوششیں بالآخر کامیاب ہوسکتی ہیں۔ دنیا کو اس کی ضرورت کی 20 فیصد گیس، تیل اور کھاد سے محروم........
