menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Imran Khan Bhutto (1)

37 0
thursday

یحییٰ بختیار ملک کے نامور وکیل اور ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی تھے، وہ بھٹو دور میں اٹارنی جنرل رہے اور 1973ء کی آئین سازی میں اہم کردار ادا کیا، کوئٹہ میں پیدا ہوئے اور وہیں انتقال ہوا، جنرل ضیاء الحق نے جب بھٹو صاحب کو گرفتار کیا اور ان کے خلاف قتل کیس بنا تو یحییٰ بختیار اس قانونی ٹیم کے سربراہ تھے جس نے بھٹو صاحب کا عدالتوں میں دفاع کیا، وہ جیل میں مرحوم سے ملاقاتیں کرتے رہے، بھٹو صاحب ان کے ذریعے اپنی فیملی، دوست احباب اور پارٹی کو پیغامات بھی بھجواتے تھے لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں یحییٰ بختیار کا بھٹو کیس میں وہی کردار تھا جو اس وقت عمران خان کی زندگی میں بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ اور سلمان صفدر کا ہے، ان کی ایک صاحب زادی زیبا بختیار شوبز میں آئیں اور پاکستان اور انڈیا دونوں میں بے انتہا شہرت پائی۔

مجھے 2000ء میں کراچی میں یحییٰ بختیار صاحب سے چند ملاقاتوں کا اتفاق ہوا، وہ اس وقت اپنی صاحب زادیوں کے ساتھ رہتے تھے، علیل تھے لیکن اس کے باوجود ان کا انرجی لیول اور یادداشت کمال تھی، مجھے انہوں نے جیل میں ذوالفقار علی بھٹو سے اپنی ملاقاتوں کے بے شمار واقعات سنائے، بیگم نصرت بھٹو، بے نظیر بھٹو، غلام مصطفی کھر، ممتاز بھٹو اور بھٹو صاحب کی لیگل ٹیم کے رویوں کے بارے میں بھی بے شمار گفتنی اور ناگفتنی باتیں بتائیں، میں بدقسمتی سے وہ تمام باتیں سردست لکھ نہیں سکتا لیکن بہرحال ایک وقت آئے گا جب وہ حقائق بھی تاریخ کا حصہ بنیں گے۔

میں نے 2000ء کے آخر میں ان سے آخری ملاقات میں ایک سوال کیا، میں نے ان سے پوچھا "آپ انتہائی سمجھ دار اور زیرک انسان ہیں، آپ نے پوری زندگی وکالت بھی کی، ہر قسم کے حالات سے گزرے لیکن آپ اس کے باوجود فوجی حکومت کے ارادوں کا اندازہ نہیں کر سکے، آپ جنرل ضیاء الحق اور ججوں کی نیت کیوں نہیں بھانپ سکے، آپ اگر چاہتے تو آپ بھٹو صاحب کی جان بچا سکتے تھے" یحییٰ بختیار نے اس کا کمال جواب دیا، ان کا کہنا تھا "آپ کو کس نے کہا ذوالفقار علی بھٹو کو ججوں اور جنرل ضیاء الحق نے پھانسی دی، بھٹو صاحب اپنی ضد، ایروگینس (تکبر) اور خوش فہمی کے ہاتھوں مارے گئے تھے، بھٹو صاحب کی بھاری بھرکم شخصیت اور کرشمہ ساز پرسنیلٹی ان کا المیہ بن گئی تھی اور وہ کسی دوسرے شخص کی بات سننے اور سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھے، میں نے انہیں کئی بار سمجھانے کی کوشش کی لیکن ان کا رویہ جارحانہ اور بدتمیزانہ تھا، میرے ساتھ میرے جونیئر تھے، مجھے ان کے سامنے بہت خفت ہوئی چناں چہ میں دوست کی بجائے ان کا وکیل بننے پر مجبور ہوگیا، وہ بھی میرے لیڈر سے میرے کلائنٹ بن گئے"۔

میرے لیے یحییٰ........

© Daily Urdu