Sochta, Aage Barhta Qatar
گزشتہ روز جمعہ کا خطبہ سنا تو دل ایک ایسی بات سے آشنا ہوا جس نے مجھے حیران بھی کیا اور متاثر بھی۔ قطر میں نئے تعلیمی سال کے آغاز سے عین پہلے امام صاحب نے اپنے خطبۂ جمعہ کا موضوع اسکول، بچے، والدین اور ان کی ذمہ داریوں کو بنایا۔ قطر میں اگلے روز سے طلبہ کی ایک بڑی تعداد نئے تعلیمی سال کے لیے اپنے اسکولوں کا رخ کرنے والی تھی۔ ایسے موقع پر امام نے مسجد کے منبر سے والدین سے براہِ راست گفتگو کی اور انہیں یاد دلایا کہ بچوں کی تعلیم صرف اسکول کی ذمہ داری نہیں، بلکہ گھر، والدین اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بظاہر یہ ایک معمولی سی بات محسوس ہوتی ہے، مگر غور کیجیے تو اس میں ایک پورا تعلیمی فلسفہ پوشیدہ ہے۔
اس خطبے کی سب سے خوبصورت بات یہ تھی کہ امام نے والدین اور اسکول کے تعلق کو ایک نئے زاویے سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسکول والدین کا شریک ہے، ان کا بدل یا متبادل نہیں۔ یہ ایک مختصر جملہ ہے، مگر ہمارے عہد کے ایک بڑے مسئلے کا نہایت جامع جواب ہے۔ ہم نے رفتہ رفتہ بچوں کی تعلیم و تربیت کا بوجھ اسکولوں کے کندھوں پر ڈال دیا ہے اور پھر توقع کرتے ہیں کہ چند گھنٹوں میں اس بچے کی شخصیت بھی سنوار دی جائے گی، اس کے اخلاق بھی بن جائیں گے، اس کے آداب بھی درست ہو جائیں گے، اس میں ذمہ داری بھی پیدا ہو جائے گی اور اسے علم بھی حاصل ہو جائے گا۔ حالانکہ اسکول گھر کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ استاد والدین کا معاون ہو سکتا ہے، ان کا شریک ہو سکتا ہے، ان کی مدد کر سکتا ہے، مگر والدین کی جگہ نہیں لے سکتا۔
خطبے میں دوسری بات اس سے بھی زیادہ اہم تھی۔ امام نے والدین کو یاد دلایا کہ بچوں کی پرورش میں علم کے ساتھ ادب اور اخلاق بھی شامل ہیں۔ بچے کو صرف کتاب پڑھا دینا تعلیم نہیں، اسے انسان بنا دینا اصل تعلیم ہے۔ اسے قلم اور کاپی خرید دینا والدین کی پوری ذمہ داری نہیں۔ اصل ذمہ داری اس سے کہیں بڑی ہے۔ بچے کو یہ سکھانا کہ وہ بڑوں کا احترام کرے، چھوٹوں سے شفقت کرے، استاد کی عزت کرے، اپنے ساتھیوں کے حقوق کا خیال رکھے، جھوٹ سے بچے، وعدہ پورا کرے، اپنی غلطی تسلیم کرے، دوسروں کی چیز کا احترام کرے، صفائی کو اپنی عادت بنائے، وقت کی قدر کرے اور اپنے عمل کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرے، یہ سب بھی تعلیم ہی........
