Kasb e Kamal Kun: Dadi Faqeerni
کسبِ کمال کُن: دادی فقیرنی
كسب كمال كُن كہ عزيزِ جہان شوى كس بے كمال ہيچ نيرزد، عزيزِ من!
دیہات کی زندگی میں کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر عام نظر آتے ہیں مگر وقت گزرنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ اصل میں وہی پورے عہد کی روح تھے۔ دادی فقیرنی بھی ایسی ہی ایک زندہ روایت تھیں۔ ان کا اصل نام شاید عالم خاتون تھا، مگر کسی نے کبھی انہیں اس نام سے نہیں پکارا۔ سب کے لیے وہ یا تو "دادی فقیرنی" تھیں یا "دادی عالماں"۔ ان کی شخصیت میں ایک عجیب سی سادگی، معصومیت، خودداری اور دیہاتی دانائی رچی بسی تھی۔ وہ ان لوگوں میں سے تھیں جو اپنی موجودگی سے ماحول کو آباد رکھتے ہیں۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتی، بولتی، چلتی پھرتی رہتیں۔
ان کی گفتگو میں دیہات کی مٹی کی خوشبو تھی اور ان کے لہجے میں اپنائیت کی وہ حرارت تھی جو اب شہروں کے ائیرکنڈیشن کمروں میں کہیں کھو چکی ہے۔ وہ خود کو ہمیشہ کمزور اور بیمار سمجھتی تھیں، اس لیے کسی بھاری کام کو ہاتھ نہ لگاتیں۔ مگر ہلکے پھلکے کاموں میں ہر وقت مصروف رہتیں۔ صبح سویرے صحن میں جھاڑو لگانا، تھوڑا تھوڑا کوڑا ترامی میں ڈال کر سر پر اٹھانا اور کئی چکر لگا کر دور کچرے کی ڈھیری تک پہنچانا ان کا روز کا معمول تھا۔ ساتھ ہی مرغیوں کو فصل یا صحن خراب کرنے سے روکنے کے لیے بلند آواز میں "کُڑے کُڑے" کی صدائیں لگاتیں۔ یہ ایک پوری زبان تھی، ایک تہذیب تھی، ایک گھریلو عدالت تھی جہاں مرغیوں کو ڈانٹ بھی پڑتی تھی اور معافی بھی مل جاتی تھی۔
دادی فقیرنی صرف اپنے گھر کی نہیں بلکہ پورے محلے کی خیرخواہ معلوم ہوتی تھیں۔ وہ جہاں سے گزرتیں، لوگوں کی خیریت دریافت کرتیں، دعائیں دیتیں اور اپنی بیماری کا ذکر بھی بڑے معصوم انداز میں کرتیں۔ اکثر کہتیں: "پُتر بیمار آں، کوئی نا وَل"۔ (بیٹا بیمار ہوں، ٹھیک نہیں ہوں) مگر یہ شکایت کم اور محبت زیادہ محسوس ہوتی تھی۔ ان کے گھر کے صحن میں پھلاہی کا ایک قد آور درخت تھا، جس کی گھنی چھاؤں گرمیوں میں........
