menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jab Dunya Tang Hone Lage

25 0
30.09.2026

انسان کی زندگی میں ایسے موسم ضرور آتے ہیں جب بظاہر سب کچھ موجود ہوتا ہے مگر دل کے اندر ایک عجیب سی گھٹن اتر آتی ہے۔ گھر وہی ہوتا ہے، لوگ وہی ہوتے ہیں، روزمرہ کے معمولات بھی اپنی جگہ قائم رہتے ہیں، مگر آدمی محسوس کرتا ہے جیسے دنیا اچانک اس کے گرد سکڑنے لگی ہے۔ راستے موجود ہوتے ہیں مگر راستہ دکھائی نہیں دیتا، دعائیں زبان پر ہوتی ہیں مگر دل بےقرار رہتا ہے، رزق میں کمی نہ بھی ہو تو برکت کی کمی محسوس ہونے لگتی ہے اور آسودگی کے باوجود دل کو آسودگی نصیب نہیں ہوتی۔

ایسے میں ایک خوب صورت نصیحت سامنے آتی ہے: جب دنیا تمہارے اوپر تنگ ہونے لگے تو اپنے مال اور دل کا صدقہ نکال دیا کرو۔ اس جملے میں ایک گہری روحانی حکمت پوشیدہ ہے۔ انسان عموماً تنگی کے وقت اپنے ہاتھ بند کر لیتا ہے، اپنے مسائل میں سمٹ جاتا ہے، اپنی پریشانیوں کو گننے لگتا ہے اور یہ سمجھنے لگتا ہے کہ جب میرے پاس خود کم ہے تو میں کسی دوسرے کو کیا دے سکتا ہوں؟

مگر دین ہمیں اس کے برعکس ایک ایسا راستہ دکھاتا ہے جس میں دینے والا بظاہر اپنا مال کم کرتا ہے لیکن حقیقت میں اپنے دل کی وسعت بڑھاتا ہے۔ صدقہ صرف کسی ضرورت مند کے ہاتھ میں چند سکے رکھنے کا نام نہیں، یہ اپنے اندر موجود خوف، بخل، خود غرضی اور بے یقینی کے خلاف ایک خاموش اعلان بھی ہے کہ میرا رزق میرے ہاتھ میں نہیں، میرے رب کے ہاتھ میں ہے۔

قرآن مجید نے بار بار انفاق اور صدقہ کی ترغیب دی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جس سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے"۔ یہ محض مال بڑھنے کا وعدہ نہیں، یہ انسان کے تصورِ رزق کو بدل دینے والی تعلیم ہے۔ ہم اکثر حساب اپنے ہاتھ سے کرتے ہیں: اتنا آیا، اتنا خرچ ہوا، اتنا بچا، اتنا کم رہ گیا۔

قرآن ہمیں ایک اور حساب سکھاتا ہے، ایسا حساب جو ہماری آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا۔ جو کچھ اللہ........

© Daily Urdu