Iqtedar Ka Nasha Aur Azmat Ka Rasta
اقتدار کا نشہ اور عظمت کا راستہ
سیاست کی دنیا بظاہر بہت دل کش دکھائی دیتی ہے۔ اقتدار کے ایوان، پروٹوکول کی چمک، فیصلوں کی قوت، ذرائع ابلاغ کی توجہ اور عوامی شہرت ایک ایسی فضا پیدا کرتے ہیں جس میں داخل ہونے والا شخص اکثر خود کو غیرمعمولی سمجھنے لگتا ہے۔ لیکن تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اقتدار اور عظمت ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ اقتدار کسی کے پاس بھی آ سکتا ہے، وراثت سے بھی، حادثات سے بھی، حالات کے جبر سے بھی اور عوامی مقبولیت کے ذریعے بھی، مگر عظمت صرف ان لوگوں کو ملتی ہے جو اپنی ذات کی حدود سے نکل کر دوسروں کے لیے جیتے ہیں۔ اقتدار انسان کو طاقت دیتا ہے لیکن عظمت انسان کو وقار عطا کرتی ہے۔ اقتدار خوف پیدا کر سکتا ہے مگر عظمت احترام پیدا کرتی ہے۔ اقتدار وقتی ہوتا ہے جبکہ عظمت نسلوں تک زندہ رہتی ہے۔ شاید اسی لیے تاریخ کے صفحات پر بعض حکمرانوں کے نام دھندلا جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگ، جن کے پاس کبھی کوئی سرکاری منصب بھی نہیں تھا، صدیوں بعد بھی انسانوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔
مصنف جب پاکستانی سیاست کی شخصیات کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کی نگاہ صرف سیاسی کامیابیوں یا ناکامیوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ وہ شخصیت کے اندرونی جہان کو بھی پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ چوہدری نثار علی میں بے پناہ صلاحیت موجود تھی لیکن روحانی جہت معمولی تھی۔ یہ ایک مختصر سا جملہ ہے مگر اس کے اندر انسانی کامیابی کے ایک بڑے راز کی طرف اشارہ موجود ہے۔ دنیا میں بے شمار لوگ ذہانت، قابلیت، انتظامی مہارت اور سیاسی بصیرت رکھتے ہیں لیکن ان کی زندگی میں وہ گہرائی پیدا نہیں ہو پاتی جو انسان کو محض کامیاب نہیں بلکہ عظیم........
