menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aqal Ki Hadein, Ilm Ki Dunya

33 0
07.10.2026

عقل کی حدیں، علم کی دنیا

کتابوں کی دنیا میں کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف پڑھی نہیں جاتیں، انسان کے اندر اترتی ہیں، اس کے سوچنے کے انداز کو بدلتی ہیں اور اسے اپنے ہی ذہن کے سامنے کھڑا کر دیتی ہیں۔ ایسی ہی ایک غیر معمولی کتاب جرمن فلسفی ایمانویل کانٹ کی "تنقیدِ عقلِ محض" ہے، جس کا اردو ترجمہ ڈاکٹر سید عابد حسین نے کیا ہے۔ سرِورق پر ایک طرف کانٹ کی باوقار تصویر ہے اور دوسری طرف وہ عنوان جس نے دو سو برس سے زیادہ عرصے سے فلسفے کی دنیا کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔

یہ کتاب دراصل اس سوال سے شروع ہوتی ہے کہ انسان جانتا کیا ہے، کیسے جانتا ہے اور کہاں تک جان سکتا ہے؟ ہم عموماً سمجھتے ہیں کہ ہماری عقل ہمارے سامنے موجود دنیا کو دیکھتی، پرکھتی اور اس کے بارے میں فیصلے کرتی ہے، مگر کانٹ نے سوال کو الٹ دیا۔ اس نے پوچھا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ دنیا کو سمجھنے کا انداز خود ہماری عقل کی ساخت سے پیدا ہوتا ہو؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اشیا کو ویسا نہیں دیکھتے جیسی وہ اپنی ذات میں ہیں بلکہ ویسا دیکھتے ہیں جیسا ہمارا ذہن انہیں دیکھنے اور سمجھنے کی اجازت دیتا ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ کتاب ایک عام فلسفیانہ تصنیف سے بلند ہو کر انسانی شعور کی ایک عظیم تحقیق بن جاتی ہے۔

کانٹ سے پہلے فلسفے میں دو بڑے رجحانات نمایاں تھے۔

ایک طرف وہ لوگ تھے جو علم کی بنیاد تجربے کو قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ انسان اپنے حواس کے ذریعے دنیا سے واقف ہوتا ہے۔

دوسری طرف وہ فلسفی تھے جو عقل کو علم کا بنیادی سرچشمہ سمجھتے تھے۔

کانٹ نے دونوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے ایک گہری ترکیب پیدا کی۔

اس کے نزدیک علم نہ صرف تجربے سے آتا ہے اور نہ صرف عقل سے، تجربہ ہمیں مواد فراہم کرتا ہے لیکن عقل اس مواد کو ایک ترتیب، ساخت اور معنی عطا کرتی ہے۔ یوں انسانی ذہن محض ایک خالی برتن نہیں جس میں باہر کی دنیا معلومات بھر دیتی ہے، بلکہ ذہن خود بھی علم کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرتا ہے۔

کانٹ کی عظمت کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس نے فلسفے کو محض "دنیا کیا ہے؟" کے سوال سے نکال کر "ہم دنیا کو جان کیسے سکتے ہیں؟" کے سوال تک پہنچایا۔

یہ فرق بظاہر معمولی معلوم ہوتا ہے لیکن فلسفے کی تاریخ میں اس کی اہمیت بہت بڑی ہے۔

فرض کیجیے ہم کسی درخت کو دیکھتے ہیں۔ ہماری آنکھ رنگ، شکل، حجم اور حرکت کو محسوس کرتی ہے، مگر ان منتشر حسی تاثرات کو "ایک درخت" کی صورت میں جمع کرنا صرف آنکھ کا کام نہیں۔ ذہن ان تاثرات کو ترتیب دیتا ہے، ان کے درمیان تعلق قائم کرتا ہے اور انہیں ایک قابلِ فہم صورت عطا........

© Daily Urdu