Allah Ki Mehboob Makhlooq
اللہ نے انسان پر سب سے پہلا احسان اس کی تخلیق کا کیا ہے، پھر اس کو اپنی سب سے بڑی صفت علم سے نوازا، بیان سکھایا اور زمین پر اپنا خلیفہ بنا دیا۔ اس میں انسان کا کیا کمال ہے؟ یہ سب اسی کا فضل ہے۔ قرآنِ کریم نے اس تخلیقی محبت کا آغاز ہی یوں فرمایا:
"الرَّحُمٰنُ۔ عَلَّمَ الُقُرُاٰنَ۔ خَلَقَ الُاِنُسَانَ۔ عَلَّمَهُ الُبَيَانَ"۔ (الرحمن: 1-4)
(وہ رحمن ہی ہے جس نے قرآن سکھایا، انسان کو پیدا کیا اور اسے بیان کا سلیقہ بخشا۔)
سب سے بڑھ کر یہ کہ اس نے انسان کی خطاؤں پر سزا کے بجائے، اپنے قانونِ عدل پر اپنی صفتِ رحمت کو غالب کرکے یقینی معافی کا اعلان کر دیا۔ جیسا کہ حدیثِ قدسی میں ہے: "إِنَّ رَحُمَتِي سَبَقَتُ غَضَبِي" (بے شک میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی)۔
اس کی رہنمائی کے لیے وقتاً فوقتاً اپنی کتاب سے مدد اور اس کی اصل حیثیت کی یاددہانی کا سلسلہ جاری رکھا اور جو سب سے بڑا فضل اس پر کیا وہ یہ کہ اسے ایک "ابدی وجود" (Eternal Being) بنا دیا۔ موت فنا کا نام نہیں، بلکہ اس ابدی سفر کی ایک مائیکرو شفٹنگ (Micro-shifting) ہے۔ اس نے انسان کے وجود کو مٹی کے بے جان ذروں سے اٹھا کر لامتناہی شعور بخشا۔
جدید کوانٹم فزکس (Quantum Physics) اور فلسفہِ شعور (Panpsychism) اب اس سچائی کی طرف لوٹ رہے ہیں کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اندھا مادہ نہیں، بلکہ ایک گہرے عالمگیر شعور سے جڑا ہوا ہے۔ اللہ نے مٹی کے انہی ابدی ذرات کو جب انسان کے قالب میں ڈھالا، تو گویا پوری کائنات کا نچوڑ اس ایک وجود میں سمو دیا۔ اس نے انسان کی زندگی کے مختلف مراحل طے کیے۔ عالمِ برزخ، ماں کا پیٹ، پھر اس دنیا میں ایک مخصوص وقت کے لیے، پھر دارِ امتحان اور پھر اس........
