menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Yaar Ko Hamne Ja Baja Dekha

23 0
22.10.2026

یار کو ہم نے جا بجا دیکھا ہے

یار کا ذکر جیسے بھی ہو۔۔ جہاں بھی ہو۔۔ راحت و تسکین کا ہی باعث ہوتا ہے۔۔ اس سے وابستہ چیزوں سے۔۔ اس کی زیارت کردہ جگہوں سے۔۔ اس کی استعمال شدہ اشیاء سے۔۔ خوشبووں کا ہی گمان ہوتا ہے۔۔ اس کے کردار کی جھلک سے، خود کو سنوارنے کے فن سے آشنائی ملتی ہے۔۔ اس کی گفتار سے گفتگو کا سلیقہ آتا ہے۔۔ اس کے افعال کی بجا آوری کے تصور سے اپنے عمل میں تقویت کی طرف راہنمائی ملتی ہے۔۔ اس کی گزرگاہوں سے مہک سی آتی ہے۔۔ اس کی قیام گاہ سے خود اس کے قیام کا تصور اجاگر ہوتا ہے۔۔

اس کی صحبت میں بیٹھنے والے افراد بھی اجنبی نہیں لگتے۔۔ وہ بھی تو اپنے ہی لگتے ہیں۔۔ ان سے تعلق اسی محبوب و یار سے ہے جو اصل میں "ہمارا" بھی ہے۔۔ ہم۔ چشم تصور میں ان کی آنکھوں کو بھی اپنے "بوسوں" سے نوازتے ہیں جن کی آنکھوں نے "یار" کو دیکھا ہوتا ہے۔۔ ان کی قدم بوسی بھی اس لئے کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح ان شخصیات کی نسبت" یار" سے ہوتی ہے۔۔ محبوب ویار کے یاروں سے تعلق اور پھر اس سلسلے سے چلنے والی آج تک کی "چین" نہ صرف قابل محبت ہے بلکہ قابل تقلید بھی ہے۔۔ خود خالق کائنات جس کو دیکھنے کے عمل کو قرآن کا حصہ بنائے

"قد........

© Daily Urdu (Blogs)