menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Maa Nange Paon Kyun Dauri?

42 0
06.09.2026

ماں ننگے پاؤں کیوں دوڑی؟

دنیا میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر بہت چھوٹے دکھائی دیتے ہیں، مگر اپنے اندر پوری انسانیت کے لیے ایک بڑا سوال چھپائے ہوتے ہیں۔ مہاراشٹر کے شہر امباجوگئی میں سینتالیس سالہ رمابائی رنویر کا تین کلومیٹر کی دوڑ میں ننگے پاؤں دوڑنا بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے۔ بظاہر یہ ایک عام سی دوڑ تھی، جس میں بہت سے لوگ شریک ہوئے ہوں گے، کسی نے جیتا ہوگا اور کسی نے ہارا ہوگا، مگر رمابائی کی دوڑ محض ایک دوڑ نہیں تھی۔ وہ اپنی بیٹی کی کتابوں، نوٹ بک اور قلم کے لیے دوڑ رہی تھیں۔ وہ اپنی غربت کے خلاف دوڑ رہی تھیں۔ وہ اپنی بیٹی کے مستقبل کے لیے دوڑ رہی تھیں۔

ان کے پاؤں میں کھیلوں کے جوتے نہیں تھے، لباس میں کوئی مخصوص دوڑ کا لباس نہیں تھا، نہ انھوں نے کبھی دوڑنے کی باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی۔ ان کے پاس صرف ایک ساڑھی تھی، عام سی چپلیں تھیں اور دل میں اپنی بیٹی کی تعلیم کا خواب تھا۔ دوڑتے ہوئے جب چپل بار بار پاؤں سے نکلنے لگی تو انھوں نے چپل ہاتھ میں اٹھا لی اور ننگے پاؤں دوڑ پڑیں۔ پھر وہ دوڑتی رہیں، یہاں تک کہ تین کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے سب سے آگے نکل گئیں۔ انعام میں انھیں تین ہزار روپے ملے۔

جب پوچھا گیا کہ ان پیسوں کا کیا کریں گی تو ان کا جواب کسی بڑے فلسفیانہ جملے سے زیادہ معنی خیز تھا: یہ پیسے اپنی بیٹی کو کتابیں خریدنے کے لیے دے دوں گی۔ ذرا ٹھہریے اور اس منظر کو اپنے ذہن میں دیکھیے۔ ایک طرف دنیا مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق، جدید ترین ٹیکنالوجی اور اربوں ڈالر کی معیشتوں کی بات کر رہی ہے، دوسری طرف ایک ماں اپنی بیٹی کے لیے کتاب اور قلم خریدنے کی خاطر تین کلومیٹر ننگے پاؤں دوڑ رہی ہے۔

یہ منظر صرف آنکھوں کو نم نہیں کرتا، یہ ہمارے اجتماعی ضمیر کو بھی جھنجھوڑتا ہے۔ رمابائی کہتی ہیں کہ ان کی بیٹی کئی دنوں سے کتابیں خریدنے کے لیے پیسے مانگ رہی تھی۔ ان کے پاس رقم نہیں تھی۔ بیٹی نے ناراض ہو کر آٹھ دن تک ماں سے بات نہیں کی۔ تب ماں نے فیصلہ کیا کہ کسی نہ کسی طرح یہ دوڑ جیتنی ہے۔ یہاں ایک ماں کی ممتا اپنی پوری قوت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ جب تک میرے جسم میں سانس ہے، میں اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلواتی رہوں گی۔ جس دن سانس رک گئی، پھر جو ہونا ہے ہو جائے۔ ایک ماں کے لیے اس سے زیادہ خوب صورت عہد اور کیا ہو سکتا ہے؟

لیکن رمابائی کی کہانی کو صرف ایک بہادر ماں کی داستان سمجھ کر تالیاں بجا دینا شاید اس کہانی کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی ہوگی۔ ہمیں اس عورت کے پاؤں بھی دیکھنے چاہییں جو ننگے پاؤں دوڑی، مگر اس زمین کو بھی دیکھنا چاہیے جس نے اسے ننگے پاؤں دوڑنے پر مجبور کیا۔ ہمیں اس کی ممتا کو سلام ضرور کرنا چاہیے، مگر اس غربت سے بھی سوال کرنا چاہیے جس میں ایک ماں اپنی بیٹی کے لیے چند ہزار روپے کی کتابیں خریدنے سے قاصر ہو جاتی ہے۔

ہمیں اس کی استقامت کی تعریف کرنی چاہیے، مگر اس نظام سے بھی پوچھنا چاہیے کہ ایک بچی........

© Daily Urdu (Blogs)