128 Di Daal Roti, Sher Khaye Ga Qaum Di Boti
128 دی دال روٹی، شیر کھائے گا قوم دی بوٹی
مسلم لیگ ن نے موجودہ حکومت میں نئی نسل کو بھرپور موقع دیا ہے، وفاق میں رانا افضل اور پرویز ملک کے صاحبزادے شامل ہیں جبکہ ایک "تحفہ" ڈی جی خان سے بھی شامل کیا ہے، آئے روز وہ ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر "یبلیاں" مارتا ہے جس کے بعد موصوف کی جگ ہنسائی تو ہوتی ہے، شریف خاندان کا تمسخر بھی خوب اڑتا ہے، جی وہ "تحفہ" وزیر ممملکت حذیفہ رحمان ہے، یوں تو وہ ہر بار کسی سینئر صحافی سے الجھ پڑتے ہیں اور دلیل ایسی نکالتے ہیں کہ میر کا شعر ان پر ہی صادق آتا ہے۔۔ اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجی۔۔
چند روز ہوئے ان کا ایک ٹی وی شو میں فرمانا تھا کہ وہ 128روپے میں کھانا کھا لیتے ہیں اور ساتھ آدھی کول ڈرنک بھی پیتے ہیں، اس مہنگائی کے سونامی میں ان کی اس بات نے نئی بحث چھیڑ دی کہ اتنے پیسوں میں بندہ پیٹ بھر کر روٹی کیسے کھا سکتا ہے؟ جس پر وہ بعد میں وضاحتیں دینے لگے کہ ایک سو روپے کی ہاف پلیٹ دال، 28 روپے کی دو روٹیاں، یعنی 14-14 روپے کی دو روٹیاں۔۔
اب یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ کھانا کہاں سے منگوایا تھا، سینٹ کے کیفے ٹیریا سے کھایا ہوگا پھر تو یہ بہت مہنگا کھایا ہے کیونکہ سُنا ہے کہ سینٹ کے کیفے ٹیریا روٹی ایک یا دو روپے کی ملتی ہے پھر باقی پیسے کہاں خرچ ہوگئے اور اگر انہوں نے کھانا کسی رہڑھی سے منگوایا ہے تو اس کو لانے کیلئے سرکاری گاڑی بھیجی ہوگی، ڈرائیور اور ملازم گئے ہوں گے، اب اتنی گرمی میں ڈرائیور اور ملازم تو بغیر اے سی کے گاڑی میں نہیں گئے ہوں گے کیونکہ پٹرول سرکار کا سڑتا ہے اور سرکار کا مال سرکاری ملازمین باپ کا مال سمجھ کر اڑاتے ہیں۔
اب کوئی عقل کا اندھا ہی ہوگا جو کہ 128روپے کے کھانے کیلئے ایک ہزار روپے کا پٹرول پھونک دے، حذیفہ رحمان کو پورا قصہ سنانا چاہئے تھا کہ وہ انہوں نے 128 کب، کیسے اور کہاں کھایا، فرض کریں وزیر مملکت نے سڑک پر جاتے ہوئے گاڑی........
