menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Roti Se Aage Ki Kahani

32 0
16.06.2026

روٹی سے آگے کی کہانی

کبھی کسی بھوکے انسان کی آنکھوں میں غور سے دیکھیے۔ وہاں صرف روٹی کی طلب نہیں ہوتی، وہاں ایک سوال بھی چھپا ہوتا ہے۔۔ ایسا سوال جو معاشرے کے سارے دعووں، ترقی کے تمام نعروں اور تہذیب کی پوری عمارت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے۔ بھوک ایک عجیب شے ہے۔ یہ صرف معدے میں نہیں لگتی، یہ انسان کی عزتِ نفس، اس کے خوابوں اور اس کی امیدوں کو بھی چاٹ جاتی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی بدقسمتی شاید یہ نہیں کہ کچھ لوگ بھوکے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم بھوک کو ایک معمول کا منظر سمجھنے لگے ہیں۔ سڑک کنارے پھیلا ہوا ہاتھ، کچرے میں رزق تلاش کرتا بچہ یا چولہے کی ٹھنڈی راکھ کو تکتی ماں اب ہمیں چونکاتی نہیں۔ گویا محرومی ہمارے عہد کا سب سے عام اور بے حس تماشہ بن چکی ہے اور یہی وہ لمحہ ہے جب ضمیر آہستہ آہستہ اپنے دروازے بند کرنا شروع کر دیتا ہے۔

غربت صرف خالی جیب کا نام نہیں۔ غربت ایک احساس ہے، ایک کیفیت ہے، ایک مسلسل محرومی کا نام ہے۔ ایک غریب آدمی صرف روٹی کا محتاج نہیں ہوتا، وہ عزت، مواقع، تعلیم، صحت اور اعتماد کا بھی محتاج ہوتا ہے۔ ہم اکثر غربت کو اعداد و شمار میں ناپتے ہیں۔ فلاں ملک میں اتنے فیصد لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، فلاں علاقے میں بے روزگاری کی شرح اتنی ہے۔ مگر غربت کا اصل چہرہ کسی معاشی رپورٹ کے صفحات پر نہیں، بلکہ اس ماں کی خاموش نگاہوں میں نظر آتا ہے جو بچوں کی بھوک کو اپنی ممتا سے چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔

عجیب تضاد ہے کہ انسان نے چاند پر قدم رکھ لیا، مصنوعی ذہانت پیدا کر لی، دنیا کو ڈیجیٹل ویلیج بنا دیا، مگر ابھی تک زمین پر کروڑوں لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں۔ ترقی کے اس شور میں بھوک کی خاموش چیخ شاید سنائی نہیں دیتی۔ گودام بھرے ہوئے ہیں مگر دسترخوان خالی ہیں۔ دولت کے دریا بہہ رہے ہیں مگر پیاسے کنارے اب بھی موجود ہیں۔ یہاں ایک سوال جنم لیتا ہےکہ کیا خیرات غربت کا حل ہے؟ بظاہر جواب ہاں میں نظر آتا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ خیرات زخم پر مرہم تو رکھ سکتی ہے، مگر........

© Daily Urdu (Blogs)