We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

گھگو گھوڑے

43 86 0
25.04.2019

دنیا کی تحریری تاریخ میں جس پہلی جنگ کی حقیقی، تمثیلی اور دیومالائی کہانیاں تفصیل سے ملتی ہیں وہ ’’ٹروجن جنگ‘‘ ہے۔ اِسی جنگ کے حوالے سے مقولہ مشہور ہے کہ ’’مجھے یونانیوں سے خاص طور پر اُس وقت ڈر لگتا ہے جب وہ کوئی تحفہ دیں‘‘۔ جب سے ہمیں گھگو گھوڑے کا تحفہ ملا ہے، اُس وقت سے ہی بے چینی، خوف اور غیر متوقع صورتحال کا سامنا ہے۔ گھگو گھوڑا نگرنگر گھومنے والے خانہ بدوش بناتے ہیں۔مقامی روایات کا حامل یہ گھگو گھوڑا پرانے کاغذ اور سرکنڈے کے ٹکڑوں سے بنتا ہے۔ جب پرانے کاغذ کو رنگ دے کر گھوڑا بنایا جاتا ہے تو اُس کے رنگوں کی بہار اور شان و شوکت قابل دید ہوتی ہے۔

گھگو گھوڑا نہ چل سکتا ہے، نہ بول سکتا ہے اور نہ ہی سوچ سکتا ہے۔ خانہ بدوشوں کی مرضی ہے کہ وہ اِس گھوڑے میں کیا رنگ بھرتے ہیں اور وہ لوگوں کو کیسا نظر آتا ہے۔ ہمارے ثقافتی ماہرین گھگو گھوڑے کو ’’ثقافتی علامت‘‘ قرار دیتے ہیں۔ یہ اس خطے کی صدیوں کی صناعی، سوچ اور روایتوں سے بھرپور استعارہ ہے۔ آج کا گھگو گھوڑا بھی انتہائی تراش خراش سے بنایا گیا ہے۔ اُس میں مڈل کلاس کی پسندیدگی کے سارے رنگ شامل کئے گئے ہیں۔ اِس گھوڑے کی تاریخ میں بیان کیا جاتا ہے کہ یہ کئی میچ جیت کر ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کر چکا ہے۔ اِسی لئے جب اِس گھگو گھوڑے کو میدان میں اتارا گیا تو ہر طرف سے واہ واہ کے ڈونگرے برسے، خریدار بھی بہت ہیں مگر گھگو گھوڑا بت کی طرح خاموش، کاٹھ کے گھوڑے کی طرح بے حس وبے حرکت اور ڈونکی راجہ کی طرح ماورائے عقل ہے۔ وہ صرف لگام کے ذریعے چل سکتا ہے، جدھر کو لگام کھینچی جائے وہ اُدھر چل پڑتا ہے اور جدھر جانے سے روکا جائے، گھگو گھوڑا فوراًرک جاتا........

© Daily Jang