menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

پاک چین تعلقات کے 75 سال، ...

21 0
22.05.2026

سال 2026 پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کا سال ہے۔ یہ تعلقات جدید عالمی سفارتکاری کی تاریخ میں ایک نہایت مضبوط، قابلِ اعتماد اور تزویراتی شراکت داری کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ گزشتہ ساڑھے سات دہائیوں کے دوران دونوں ہمسایہ ممالک نے علاقائی چیلنجز، عالمی تبدیلیوں، معاشی اتار چڑھا اور سفارتی حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور ایسی دوستی قائم کی جسے اکثر پہاڑوں سے بلند، سمندروں سے گہری، شہد سے میٹھی اور فولاد سے زیادہ مضبوط قرار دیا جاتا ہے۔1951 میں سفارتی تعلقات کے باضابطہ قیام کے بعد سے پاکستان اور چین نے علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر ہمیشہ ایک دوسرے کی حمایت کی ہے۔ باہمی احترام، خودمختاری، عدم مداخلت اور تزویراتی تعاون پر مبنی یہ شراکت داری وقت کے ساتھ صرف سیاسی اور سفارتی روابط تک محدود نہیں رہی بلکہ دفاع، تجارت، انفراسٹرکچر، تعلیم، ٹیکنالوجی، زراعت، ثقافت اور عوامی روابط تک وسیع ہو چکی ہے۔آج دونوں ممالک کے تعلقات کو آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، جو عالمی سفارتکاری میں ایک ایسی نایاب مثال ہے جہاں بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات کے باوجود اعتماد اور طویل المدتی وابستگی برقرار رہی۔گزشتہ برسوں میں اس شراکت داری کی سب سے نمایاں اور انقلابی علامت چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) رہی ہے، جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے۔ سی پیک نے پاکستان کے معاشی اور انفراسٹرکچر کے منظرنامے کو نمایاں طور پر تبدیل کیا ہے اور جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطی اور مغربی چین کے درمیان علاقائی روابط کو مضبوط بنایا ہے۔پاکستان اور چین کے تعاون سے متعلق حالیہ حقائق ناموں کے مطابق سی پیک سے وابستہ منصوبوں میں 25 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی جا چکی ہے جبکہ تقریبا 2 لاکھ 61 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ اس راہداری کے تحت جدید شاہراہیں، موٹرویز، توانائی منصوبے، ٹرانسمیشن........

© Nawa-i-Waqt