menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

یومِ آزادی ایک احساس، ...

21 0
14.08.2026

چودہ اگست صرف کیلنڈر پر ثبت ایک تاریخ نہیں۔ یہ ایک احساس ہے ایسا احساس جو سبز ہلالی پرچم کو ہوا میں لہراتا دیکھ کر دل کی دھڑکن تیز کر دیتا ہے، قومی ترانے کی پہلی دھن پر نگاہیں جھکا دیتا ہے اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ وطن ہمیں ورثے میں ضرور ملا، مگر اس کی حفاظت، تعمیر اور سربلندی ہماری ذمہ داری ہے۔ آزادی کا جشن منانا آسان ہے، آزادی کا حق ادا کرنا مشکل ہے۔ہم گلیاں سجا سکتے ہیں، گھروں پر جھنڈے لہرا سکتے ہیں، گاڑیوں پر سبز ہلالی پرچم لگا سکتے ہیں، رات گئے تک ملی نغمے سن سکتے ہیں مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان صرف چودہ اگست کو ہمارا ہوتا ہے؟ اگر پاکستان ہمارا ہے تو پندرہ اگست کو بھی ہمارا ہے جب ہم سڑک پر قانون توڑتے ہیں، تب بھی ہمارا ہے جب کسی دفتر میں ایک جائز کام کے لیے رشوت مانگی جاتی ہے، تب بھی ہمارا ہے جب کسی غریب کا حق دبایا جاتا ہے، کسی کمزور کو انصاف نہیں ملتا، کسی بچے کے ہاتھ میں کتاب کے بجائے مزدوری کا اوزار آ جاتا ہے تب بھی یہ پاکستان ہمارا ہی ہوتا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں آزادی ایک احساس سے بڑھ کر ذمہ داری بن جاتی ہے۔پاکستان کسی ایک حکومت، ایک جماعت، ایک ادارے ، ایک صوبے ، ایک زبان یا ایک طبقے کا نام نہیں۔ پاکستان ان کروڑوں انسانوں کا مشترکہ گھر ہے جو مختلف زبانیں بولتے ہیں، مختلف علاقوں میں بستے ہیں، مختلف روایات رکھتے ہیں، مگر جن کے سروں پر ایک پرچم اور دلوں میں ایک وطن ہے۔بلوچستان کے پہاڑوں سے خیبر پختونخوا کی وادیوں تک، سندھ کے میدانوں سے پنجاب کی بستیوں تک، گلگت بلتستان کی چوٹیوں سے آزاد کشمیر کے سبزہ زاروں تک یہ زمین ہمیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کرتی، یہ ہمیں........

© Nawa-i-Waqt