menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

عید کی خوشیاں: امیروں کا جشن، غریبوں کا ماتم؟

35 0
20.03.2026

مہنگائی، بے یقینی اور نظام کی بے حسی نے عام آدمی سے جینے کی امنگ چھین لی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسی گھٹن میں سانس لیتے ہوئے رخصت ہو جائیں گے یا اس تاریک سرنگ کے دوسرے کنارے پر روشنی کی کوئی کرن موجود ہے؟

ہمارے ملک میں ایک عجیب تضاد اور دوغلا پن جڑ پکڑ چکا ہے۔ جب بھی عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوتا ہے اور حکومت پٹرول کی قیمتوں میں چند روپے کا اضافہ کرتی ہے، تو ٹی وی ٹاک شوز سے لے کر سوشل میڈیا کے تبصروں تک ایک طوفان کھڑا ہو جاتا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں سڑکوں پر نکل آتی ہیں، تجزیہ نگار معیشت کی تباہی کے نوحے پڑھتے ہیں اور ہر عام آدمی اسے اپنی بقا کا مسئلہ بنا لیتا ہے۔

لیکن کیا کبھی کسی نے اس ’خاموش اور سفید پوش لوٹ مار‘ پر غور کیا ہے جو ہماری عام مارکیٹ میں، ہماری آنکھوں کے سامنے، روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے؟ وہ اشیاء جن کا کوئی سرکاری ریٹ مقرر نہیں اور نہ ہی کوئی معیار جانچنے کا پیمانہ، وہاں جس کا جو جی چاہتا ہے، وہ قیمت وصول کر رہا ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان میں اس وقت دو طرح کی مہنگائی ہے۔ ایک وہ جو عالمی حالات اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ہے، اور دوسری وہ جو سراسر ’مصنوعی‘ اور ’انفرادی‘ ہے۔ یہاں پانچ سو روپے کی چیز بعض اوقات پانچ ہزار میں بھی فروخت کر دی جاتی ہے، اور خریدنے والے کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ بھاری قیمت ادا کرنے کے باوجود گاہک کو یہ یقین نہیں ہوتا کہ اسے ملنے والی چیز ’ایک نمبر‘ ہے بھی یا نہیں۔

ایک عام گاہک، جس نے بمشکل اپنی حلال کی کمائی سے چند پیسے بچائے ہوتے ہیں، وہ کیسے پہچان کرے کہ معیار کیا ہے؟ مارکیٹ میں بیٹھے دکاندار گویا شکاری کی طرح گاہک کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں کہ کوئی ’مرغی‘ پھنسے اور اسے ذبح کر دیا جائے۔

صرف دکانیں اور برانڈز ہی نہیں، ٹرانسپورٹ کا حال تو اس سے بھی کہیں زیادہ ابتر اور تکلیف دہ........

© Express News (Blog)