رمضان المبارک: آغاز کی رونق سے انجام کی تنہائی تک
رمضان المبارک کا چاند نظر آتے ہی ہماری بستیوں اور شہروں کی فضا یکسر بدل جاتی ہے اور ہر طرف ایک خاص قسم کا روحانی سکون محسوس ہونے لگتا ہے۔
مسجدوں سے اٹھنے والی تلاوت کی دلنشین صدائیں اور صفوں میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے والے فرزندانِ توحید ایک نہایت دلکش اور ایمان افروز منظر پیش کرتے ہیں۔
پہلے عشرے میں مسلمانوں کا جوش و خروش اس قدر دیدنی ہوتا ہے کہ مسجدوں کے صحن بھی نمازیوں کے لیے تنگ پڑ جاتے ہیں۔ تراویح کے وقت جگہ ملنا محال ہو جاتا ہے اور ہر چھوٹا بڑا مسجد کی طرف دوڑتا نظر آتا ہے، جس سے معاشرے میں ایک نئی زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
لیکن جوں جوں وقت گزرتا ہے اور ہم رمضان کے درمیانی ایام میں داخل ہوتے ہیں، تو یہ رونقیں آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگتی ہیں اور صفوں کی تعداد کم ہونے لگتی ہے۔
یہ ایک انتہائی تلخ اور افسوسناک حقیقت ہے کہ جیسے جیسے ہم اس مبارک مہینے کے سب سے اہم حصے یعنی آخری عشرے کے قریب پہنچتے ہیں، صفوں میں فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ وہی مسجدیں جو شروع میں بھری ہوئی تھیں، اب خالی ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور وہ جوش و جذبہ جو پہلے دن تھا، وہ غائب ہونے لگتا ہے۔ انسان حیران ہوتا ہے کہ کیا ہماری عبادت صرف چند دنوں کے جوش تک محدود تھی یا اس کے پیچھے کوئی گہرا مقصد بھی تھا۔
رمضان المبارک کے ابتدائی ایام میں تو تقویٰ اور پرہیزگاری کا چرچا ہر زبان پر ہوتا ہے مگر المیہ یہ ہے کہ جب وہ گھڑی آتی ہے جو جہنم سے آزادی کا پروانہ لے کر آتی ہے، تو ہماری ترجیحات بدل جاتی ہیں۔
آخری عشرہ جو کہ عبادت کی انتہا ہونا چاہیے تھا، وہ ہماری غفلت کی نذر ہو جاتا ہے اور ہماری توجہ مسجدوں سے ہٹ کر بازاروں کی چکا چوند پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ ہم اللہ سے لو لگانے کے بجائے برانڈز کی سیلز، کپڑوں کے نت نئے ڈیزائنوں اور جوتوں کی خریداری میں اس قدر مگن ہو جاتے ہیں کہ ہمیں اپنے خالق سے مانگنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔
جہاں ہمیں آخری دس راتوں میں اعتکاف کی صورت میں دنیا سے کٹ کر اپنے رب کے حضور........
