menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sangeen Juraim Ki Amajgah Bana Islamabad

28 0
13.08.2026

سنگین جرائم کی آماجگاہ بنا اسلام آباد

ذاتی پریشانیوں کے گرداب میں بھی ان کے ذکر سے گریز کرتا ہوں۔ بطور صحافی مگر روزمرہ زندگی میں چند تکلیف دہ مراحل سے گزرتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ جو مسئلہ مجھے در پیش آیا وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ذاتی نہیں، اجتماعی بھی ہوسکتاہے۔ اس مسئلے کا ذکر قارئین کو خبردار کرنے کے علاوہ اس کے تدارک کی راہ ڈھونڈنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

میری بیوی کو ترکہ میں جو مکان ملا اس کو توڑ کر اس کے حصے میں جو زمین کا ٹکڑا آیا اس پر ہم دونوں نے عمر بھر کی محنت سے بچائی رقم کی بدولت نہایت چاؤ سے مکان تعمیر کروایا ہے۔ اس کی تعمیر کے دوران یہ امید باندھی کہ بیٹیوں کی شادی اور رخصت کے بعد یہ گھر ہمارے بڑھاپے کا دارالسکون ہوگا۔ عمر کے آخری حصوں میں داخل ہوتے ہی مگر شدت سے احساس ہونا شروع ہوگیا ہے کہ باہرسے خوب صورت اور بارُعب دِکھتے مکان میں تنہا رہنا روزانہ کی بنیاد پر نت نئی مشکلات کے منہ میں دھکیل دیتا ہے۔ اپنا "کوٹھی نما" مکان تعمیر کروانے کے بجائے لہٰذا بڑھاپے کی جانب بڑھتے ہوئے ہمیں کسی اپارٹمنٹ میں فلیٹ لے کر رہنا چاہیے تھا۔ رہائشی مشکلات کے علاوہ دورِ حاضر میں ایسے جرائم بھی نمودار ہورہے ہیں جو ہمارے خواب وخیال میں بھی نہیں آئے تھے۔ ٹیلی فون پیغامات یا گفتگو کے ذریعے ا?پ کے بینک اکاؤنٹ تک رسائی ہماری سوچ کے مطابق ناممکن تھی۔ چند ماہ قبل مگر میری بیوی اس سے محض ربّ کے کرم سے بال بال بچی۔

متوسط طبقے کے اکثر دیہاڑی دار یا ماہوار آمدنی والے گھرانوں کی طرح گھر تعمیر کرواتے ہوئے ہم نے حکومت کی جانب سے نہایت اہتمام سے متعارف کروائی نیٹ میٹرنگ کی پیشکش سے استفادہ کی ٹھان لی تھی۔ وہ نصب ہوگیا تو چند مہینوں میں ایسے بل آئے جو حکومت کو بجلی خریدنے کے حوالے سے........

© Daily Urdu