Janab Wazir e Azam, Ye Qatal Hain
جناب وزیراعظم، یہ قتل ہیں
جی ہاں، جناب وزیراعظم، میں پمز میں شہید ہونے والے چودہ بچوں کے حوالے سے بات کر رہا ہوں، وہ پھول جو کھلتے ہی اپنے مسیحاؤں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے۔ میں پچھلے تین روز سے ان عورتوں کے بارے سوچ رہا ہوں جنہوں نے نو ماہ تک اپنے پیٹوں میں ان بچوں کو رکھا اور کئی تو ایسی تھیں کہ ان کے پیٹ چیر کر، سی سکشن کے ذریعے، ان بچوں کو باہر نکالا گیا۔ وہ بچے جو اپنی ماؤں کے پیٹوں میں محفوظ و مامون تھے، وہاں سانس بھی لے رہے تھے اور رزق بھی، کچھ نااہلوں اور نکموں کی وجہ سے زندگی جیس نعمت سے محروم ہوگئے۔
میں ان باپوں کے بارے سوچ رہا ہوں جو بیویوں کے پیٹوں میں موجود بچوں پر خون پسینے کی کمائیاں خرچ کرتے رہے، ان کی امیدوں کے دیپ جلتے ہی بجھا دئیے گئے۔ میں نے بہت سارے ڈاکٹروں سے بات کی، بیشتر نے مجھے کہا کہ یہ ایک حادثہ ہے، ڈاکٹر زندگیوں کی حفاظت کرتے ہیں وہ کسی کی جان نہیں لیتے مگر میں ان سے اتفاق کرتے ہوئے بھی اتفاق نہیں کر پا رہا، میری نظر میں یہ محض حادثہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک قتل ہے، چلیں، یہ میں مان لیتا ہوں کہ یہ قتل عمد نہیں ہے مگر یہ قتل خطا ضرور ہے، یہ قتل بالسبب ضرور ہے۔
جی ہاں، جناب وزیراعظم، مجھے لگی لپٹی آتی ہے اور نہ ہی منافقت، مجھے کہنا ہے کہ یہ قتل اُن سے ہوئے ہیں جن کی ذمہ داری ان جانوں کی حفاظت تھی۔ آپ نے وفاقی سیکرٹری صحت کو عہدے سے ہٹا دیا، معطل کر دیا، بہت اچھا کیا کہ یہ سیاسی طور پر ضروری تھا اور انتظامی طور پر بھی مگر میں اپنے اب تک کے صحافتی تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں........
