Madinay Ka Shaheed Aur Rasool Allah Ki Baddua
مدینے کا شہید اور رسول اللہﷺ کی بددعا
نجد جزیرہ نما عرب کا وسطی علاقہ ہے، یہ مدینہ منورہ سے لے کر یمامہ تک پھیلا ہوا ہے، یہاں کے نخلستان بہت مشہور ہیں، صحرا ؤں کے بیچوں بیچ کہیں کہیں کھجوروں کے باغات اور میٹھے پانے کے چشمے ہیں۔ بعثت نبوی کے وقت نجد کے اس علاقے میں، مدینہ سے کافی فاصلے پر ایک کنواں تھا جسے معونہ کہا جاتا تھا۔ یہ بنو عامر اور بنو سلیم کی ملکیت تھا اور ابلیٰ پہاڑ کے قریب واقع تھا۔
صفر چار ہجری میں نجد کا ایک سردار ابوبراءعامر بن مالک آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ یہ بنو عامر کے معزز لوگوں میں سے تھا مگر قبیلے کی اصل قیادت اس کے بھتیجے عامر بن طفیل کے پاس تھی۔ ابو براءآپ سے بڑے احترام سے پیش آیا، آپ نے اسے اسلام کی دعوت دی، اس نے قبول کیا نہ ہی انکار، بلکہ کہنے لگا آپ اپنے ساتھیوں کا ایک وفد میرے ساتھ بھیج دیں جو اہل نجد کو اسلام کی دعوت دے اس کے بعد ہم قبول اسلام کا فیصلہ کریں گے۔ آپ نے فرمایا: "میں اہل نجد سے مطمئن نہیں ہوں، میرے اصحاب کو وہاں کوئی حادثہ پیش آ سکتا ہے"۔ اس نے کہا: "آپ فکر نہ کریں، یہ تمام لوگ میری امان میں ہوں گے"۔
آپ نے سترحفاظ اورعالم دین صحابہ کرامؓ کو اس کے ساتھ روانہ کر دیا۔ یہ لوگ معونہ کے علاقے میں پہنچے تو ابوبراءکے بھتیجے عامر بن طفیل نے جو بنو عامر کا سردار تھا، دھوکے سے صحابہ کرامؓ پر حملہ کر دیا۔ صحابہ کرام نہتے تھے مگر بہادری سے لڑے اور 68 صحابہ کرام شہید ہو گئے۔ جبرائیلؑ نے رسول اللہ کو واقعے کی اطلاع دی، آپ بہت غمگین ہوئے، کئی دن تک طبیعت بے چین رہی اور آپ اس سانحے کے غم سے نہ نکل سکے۔ صحابہ کرامؓ نے کسی اور واقعے پر آپ کو اتنا غمگین نہیں دیکھا تھا جتنا آپ اس واقعے پر پریشان تھے۔ آپ نے پورا ایک مہینہ قاتلوں کے لیے بد دعا کی اور ہر صبح نماز فجر میں قنوت نازلہ پڑھ کر ان کا نام لے کر ان کے لیے بد دعا کر........
