Istafsar e Taskheer o Sabaat e Arz
استفسارِ تسخیر و ثباتِ ارض
"اے عزیز! جب ہم کسی مملکت کے مادی جاہ و جلال، اس کے تحرک اور وسائل کی بات کرتے ہیں، تو ہم دراصل کن مظاہرِ قدرت کو زیرِ بحث لاتے ہیں؟"
"ہم بظاہر فضاؤں کے وسعت پذیر افق، زمین کے سینے پر بہتی طغیانیوں اور خاک کے بطون میں چھپی معدنیات ہی کا تذکرہ کرتے ہیں"۔
"تو کیا یہ تسلیم کر لیا جائے کہ یہ محض بے زبان اور جامد طبعی اشیاء ہیں، یا ان کے پسِ پردہ کوئی گہرا فلسفیانہ اور عمرانی راز پوشیدہ ہے؟"
"ظاہر ہے کہ یہ جامد اشیاء اپنے وجود میں خود کفیل نہیں، فضا کی موجیں مواصلاتی بینڈوڈتھ کا ذریعہ بنتی ہیں، دریا توانائی کی حرارت کو جنم دیتے ہیں اور ارضیات کے گہرے خزانوں سے صنعت کی شریانیں زندہ رہتی ہیں"۔
"بہت خوب! لیکن اگر یہ وسائل اپنی جگہ موجود رہیں اور انسان ان پر فکر، سائنسی بصیرت اور سرمایے کی کمند نہ ڈالے، تو کیا یہ کسی قوم کے........
