China Ki Raftar, 50 Hazar Kilometer Rail
چین نے ایک بار پھر دنیا کو چونکا دیا ہے۔ جب شی آن سے یان آن تک نئی ہائی اسپیڈ ریلوے لائن کا افتتاح ہوا تو اس کے ساتھ ہی چین کا تیز رفتار ریلوے نیٹ ورک پچاس ہزار کلومیٹر سے تجاوز کر گیا۔ یہ محض ایک عدد نہیں، یہ ایک اعلان ہے کہ اکیسویں صدی کی نقل و حرکت، معیشت اور ریاستی منصوبہ بندی کا مرکز کہاں منتقل ہو چکا ہے۔ آج دنیا کے کسی بھی ملک کے پاس اتنا وسیع، مربوط اور فعال ہائی اسپیڈ ریلوے نظام نہیں جتنا چین کے پاس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چین اکیلا اتنی ہائی اسپیڈ ریل چلا رہا ہے جتنی باقی پوری دنیا مل کر بھی نہیں چلا پا رہی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انفراسٹرکچر محض سہولت نہیں رہتا بلکہ قومی طاقت اور وژن کی علامت بن جاتا ہے۔
چین کی ہائی اسپیڈ ریل اب ان شہروں کے ستانوے فیصد تک پہنچ چکی ہے جن کی آبادی پانچ لاکھ سے زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑے شہروں کے درمیان فاصلے محض نقشوں پر رہ گئے ہیں، عملی زندگی میں نہیں۔ پانچ سو کلومیٹر کے دائرے میں ایک سے دو گھنٹے کا سفری دائرہ بن چکا ہے، ہزار کلومیٹر کا سفر چار گھنٹوں میں اور دو ہزار کلومیٹر تک کے سفر ایسے ہو گئے ہیں کہ صبح جا کر شام کو واپس آنا ممکن ہو رہا ہے۔ یہ صرف........





















Toi Staff
Sabine Sterk
Gideon Levy
Mark Travers Ph.d
Waka Ikeda
Tarik Cyril Amar
Grant Arthur Gochin