Gulzar I Love You, Tabu I Love You
گلزار، آے لو یو۔۔ تبو، آے لو یو
کسی کی عمر کا وہ حصہ سب سے بہ ترین ہوتا ہے، جب وہ خواب دیکھتا ہے۔ خواب وہ، جو جاگتی آنکھوں سے دیکھے جاتے ہیں۔ زندگی کے جس حصے میں وہ خواب دیکھنا چھوڑ دے، اسے بے ثمر دور سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ میں اور میرا دوست خواب دیکھنے والی عمر میں تھے۔ ایسے ہی کئی خواب جنھیں ہم صرف ایک دوسرے کو سناتے، ان خوابوں کی کسی تیسرے کو خبر ہوجاتی، تو ہمیں دیوانہ قرار دیا جاتا، شاید اسی لیے کہا جاتا ہے، ہر کسی کو اپنا خواب نہیں بتانا چاہیے۔ ان دنوں دیکھے خواب ایسے سچ ہوے، کہ کس کس خواب کی تعبیر بیان ہو!
ہم دونوں ہی فلم ساز، شاعر گلزار کے پرستار تھے، راج گڑھ لاہور کی ایک بیٹھک میں بیٹھ کر گلزار سے ملنے کا خواب دیکھنا، اپنا مذاق اڑانے والی بات ہی تھی۔ میں اداکارہ تبو کا بھی دیوانہ تھا۔ اس وقت تبو اتنی مقبول نہ تھیں۔ فلم "سزاے کالا پانی" دیکھتے، وہ دل میں ایسی کھبیں، کہ آج تک نکل کر نہ دیں۔ زرا سنیے تو دو خواب زادوں کا مکالمہ:
"اگر تبو سے ملاقات ہو جاے، تو تم کیا کرو گے؟
"کیا کروں گا؟ میں سوچنے لگا، دل نے کہا، "میں تبو سے فرمایش کروں گا، کہ وہ اپنے ہاتھ سے چاے بنا کر لاے"۔
"اور پھر یہ کہ وہ اور میں ایک ساتھ بیٹھ کر چاے پئیں گے"۔
"بس؟" دوست کی ذومعنی مسکراہٹ کچھ اور پوچھ رہی تھی۔
میں نے اپنے دل کو مزید ٹٹولا، تو اس سے زیادہ کی خواہش نہ برآمد ہوئی۔۔ "ہاں! ۔۔ بس!"
یہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے، سن انیس سو پچانوے چھیانوے کا ذکر ہے، کہ میں راول پنڈی کے صدر بازار، بنک روڈ کنارے لگے ٹھیلے سے پرے بیٹھا، ایک دوست کے ساتھ گپ ہانک رہا........
