Jabr Ki Qaid Mein Muskurati Khawateen
جبر کی قید میں مسکراتی خواتین
پاکستان میں شاید اب سب سے مشکل کام جرم کرنا نہیں۔ بلکہ ریاست سے سوال کرنا ہے یہاں سوال کرنے والے پر مقدمہ بن سکتا ہے۔ اختلاف کرنے والا غدار قرار دیا جا سکتا ہے، احتجاج کرنے والی عورت گرفتار ہوسکتی ہے اور اقتدار کے سامنے کھڑے ہونے والے کو برسوں عدالتوں کے چکر لگانے پڑ سکتے ہیں اور پھر ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد ہوں، صنم جاوید ہوں، فلک جاوید ہوں، ایمان مزاری ہوں، ماہ رنگ بلوچ ہوں یا وہ دوسری خواتین جو سیاسی انسانی حقوق یا اختلافِ رائے کے معاملات میں ریاستی کارروائیوں کا سامنا کرتی رہی ہیں ان سب کے مقدمات الگ ہوسکتے ہیں نظریات الگ ہوسکتے ہیں سیاسی وابستگیاں الگ ہوسکتی ہیں مگر ایک سوال سب کو جوڑتا ہےکیا ریاست اختلاف کو جرم سمجھنے لگی ہے؟
یہ سوال کسی ایک جماعت کا نہیں پاکستان کے مستقبل کا سوال ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی عمر رسیدہ خاتون اگر برسوں قید میں رہیں تو ہمیں کم از کم اتنا ضرور سوچنا چاہیے کہ قانون کے ساتھ انسانیت بھی کوئی چیز ہے یا نہیں اگر کسی پر الزام ہے تو عدالت فیصلہ کرے اگر جرم ثابت ہو تو سزا دی جائے مگر ریاست کا کام انتقام لینا نہیں، انصاف فراہم کرنا ہے ہمیں یہ فرق سمجھنا ہوگا ریاست اور ریاستی طاقت ایک چیز نہیں۔
ریاست آئین ہے۔ قانون ہے عدالت ہے، شہری کا حق ہے اداروں کی حدود ہیں جو شخص وردی، عہدے، اختیار یا سرکاری کرسی کو اپنی ذاتی طاقت سمجھنے لگے وہ........
