Eteraf Hamesha Inkar Se Behtar Hota Hai
اعتراف ہمیشہ انکار سے بہتر ہوتا ہے
تاریخ کے صفحات پر نظر ڈالیں تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ ریاستیں بیرونی حملوں سے کم اور اندرونی کمزوریوں سے زیادہ ٹوٹتی ہیں۔ دشمن کی توپیں اتنا نقصان نہیں پہنچاتیں جتنا انصاف کے زوال بداعتمادی نااہلی اور بے حسی سے پہنچتا ہے۔ جب کسی معاشرے میں قانون پر یقین متزلزل ہونے لگے اداروں پر اعتماد کمزور پڑ جائے اور عام آدمی اپنے مستقبل سے زیادہ اپنی بے بسی پر یقین کرنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ مسئلہ صرف حکومت کا نہیں پورے نظام کا ہے۔ اگر اقتدار کے ایوانوں سے یہ آواز بلند ہو کہ نظام ٹھیک کام نہیں کر رہا تو اسے نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے اعتراف ہمیشہ انکار سے بہتر ہوتا ہے لیکن تاریخ صرف اعتراف لکھنے والوں کو یاد نہیں رکھتی تاریخ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے اعتراف کے بعد اصلاح کا راستہ اختیار کیا۔
سوال یہ نہیں کہ خرابی کہاں ہے، سوال یہ ہے کہ کیا اسے درست کرنے کا ارادہ بھی موجود ہے؟ کیونکہ قومیں تقریروں سے نہیں فیصلوں سے بدلتی ہیں عوام کے زخم الفاظ سے نہیں بھرتے انہیں انصاف، مساوات اور کردار کا مرہم درکار ہوتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں شاید سب سے بڑی کمی وسائل کی نہیں بلکہ اعتماد کی ہے۔ ایک کسان اپنی فصل اگاتا ہے مگر قیمت کے بارے میں غیر یقینی کا شکار رہتا ہے، ایک طالب علم برسوں محنت کرتا ہے مگر........
