menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

25Wa Ghanta

20 0
05.01.2026

کیا واقعی دن پچیس گھنٹے کا ہوگیا ہے؟ نہیں، دن تو آج بھی وہی پرانا، وفادار اور مظلوم چوبیس گھنٹوں پر مشتمل ہے۔ سورج اسی وقت نکلتا ہے، اسی وقت ڈوبتا ہے، گھڑی کی سوئیاں بھی وہی چکر لگاتی ہیں، مگر مسئلہ دن میں نہیں، مسئلہ ہم ہماری سوچ میں ہے۔ سیانے ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ اگر ترقی کرنی ہے تو چوبیس گھنٹوں میں سے پچیسواں گھنٹہ پیدا کرنا پڑتا ہے۔ یہ پچیسواں گھنٹہ گھڑی میں نہیں ملتا، یہ نیت، نظم و ضبط اور ترجیحات سے پیدا ہوتا ہے۔

ہم میں سے اکثر لوگ وقت کے معاملے میں بڑے سادہ ہیں۔ اذان ہوئی تو کہا: "ابھی وقت ہے"، آلارم بجا تو بٹن دبا کر فرمایا: "پانچ منٹ اور"، دفتر کا کام آیا تو کہا: "ذرا چائے پی لوں"، کتاب سامنے رکھی تو خیال آیا: "کل پڑھ لیں گے"۔ یہی پانچ پانچ منٹ، جب جمع ہوتے ہیں، تو کم از کم ایک گھنٹہ بن جاتے ہیں اور یہی وہ گھنٹہ ہوتا ہے جو ہمیں آگے لے جا سکتا تھا، مگر ہم نے اسے لحاف کے نیچے، سوشل میڈیا کی اسکرولنگ میں یا "بس ابھی کرتا ہوں" کی نذر کر دیا۔

بانی پاکستان کی زندگی اس پچیسویں گھنٹے کی عملی تفسیر ہے۔ وہ شدید علالت کے باوجود وقت کے پابند تھے۔ بیماری کے عالم میں بھی فائلیں وقت پر منگواتے، ملاقاتیں مختصر مگر بامقصد رکھتے۔ ان کے نزدیک........

© Daily Urdu (Blogs)