menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Fashion Culture

16 0
03.07.2026

شہر کے سب سے بڑے مال میں داخل ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے قوم نے اپنے تمام بنیادی مسائل وقتی طور پر ملتوی کرکے آئینے کے سامنے کھڑے ہونے کا فیصلہ کر لیا ہو۔ باہر سڑک پر ٹوٹی ہوئی فٹ پاتھ، دھواں اگلتی گاڑیاں، بجلی کے بل، بےروزگاری، مہنگائی اور نظام کی نااہلی منہ چڑا رہے ہوتے ہیں، مگر اندر روشنی ایسی ہوتی ہے جیسے ترقی نے مستقل پتہ یہی لکھوا رکھا ہو۔ شیشے کے پیچھے کھڑے بےجان مانیکن ایسے سجے ہوتے ہیں جیسے جمہوریت کے منشور ہوں: خوشنما، پُرکشش، مہنگے اور حقیقت سے مکمل لاتعلق۔

نوجوان لڑکے اپنے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے ایسے چلتے ہیں جیسے قومی معیشت کا بوجھ ان کے کندھوں پر نہیں، صرف جیکٹ کے کٹ پر ہو۔ لڑکیاں لباس کے رنگ پر یوں غور کرتی ہیں جیسے زندگی کی سب سے بڑی سیاسی رائے یہی ہو کہ اس سال پیسٹل چل رہا ہے یا مرون۔ ماں باپ قیمت کے ٹیگ دیکھتے ہیں، پھر بچوں کے چہرے دیکھتے ہیں اور آخرکار اپنی جیب کی بے عزتی برداشت کر لیتے ہیں، کیونکہ اس معاشرے میں اب عزت کردار سے نہیں، "لُک" سے وابستہ ہوتی جا رہی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم ایک ایسی قوم بن گئے ہیں جسے روٹی، انصاف، تعلیم، صحت اور فکرکے بحران سے زیادہ اپنے "پریزنٹ ایبل" ہونے کی فکر ہے۔

یہ فیشن کلچر آخر ہے کیا؟ محض لباس کا بدلتا ہوا ذوق؟ نہیں۔ یہ محض رنگ، کپڑا، ڈیزائن یا اسٹائل کا معاملہ نہیں۔ یہ ہمارے عہد کی وہ خاموش سیاست ہے جس میں جسم بازار ہے، شناخت اشتہار ہے اور انسان آہستہ آہستہ صارف میں تبدیل ہو رہا ہے۔ فیشن اب صرف پہننے کی چیز نہیں رہا، یہ ایک بیانیہ ہے، ایک ایسا بیانیہ جو ہمیں بتاتا ہے کہ خوبصورت کون ہے، جدید کون ہے، قابلِ قبول کون ہے اور کمتر کون ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ اچھا پہننا کیوں چاہتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اب "اچھا" کس نے طے کیا ہے۔ ہم نے؟ ہماری تہذیب نے؟ ہماری ضرورت نے؟ ہمارے موسم نے؟ یا کسی عالمی برانڈ نے، جسے نہ ہمارے معاشرے سے دلچسپی ہے، نہ ہماری تاریخ سے، نہ ہمارے طبقاتی دکھ سے، نہ ہماری تہذیبی شناخت سے۔ اسے صرف ہماری جیب سے دلچسپی ہے اور اس جیب تک پہنچنے کا سب سے آسان راستہ ہمارے احساسِ کمتری سے ہو کر گزرتا ہے۔

فیشن کے حق میں سب سے مقبول دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یہ اظہارِ ذات ہے۔ انسان کو حق ہے کہ وہ اپنے لباس سے اپنی شخصیت ظاہر کرے۔ بات اچھی لگتی ہے، کیونکہ آج کل ہر جملہ جس کے آخر میں "میری چوائس" لگ جائے، وہ فوراً جدید، مہذب اور ناقابلِ تنقید ہو جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ چوائس آخر بنتی کہاں ہے؟ اگر آپ کے حسن کا معیار انسٹاگرام طے کرے، آپ کے لباس کا سلیقہ کسی فیشن بلاگر کے ریلز سے برآمد ہو، آپ کے جوتوں کی اہمیت کسی برانڈ کی مہم سے پیدا ہو، آپ کے بالوں کا انداز کسی اداکار کی نئی سیریز کے بعد اچانک "ٹرینڈ" بن جائے، تو پھر یہ اظہارِ ذات نہیں، اظہارِ اثرپذیری ہے۔ یہ اپنی پسند........

© Daily Urdu (Blogs)