Sirf Aik Nehr
لاہور ایک اپنا مخصوص ثقافتی ورثہ رکھتا ہے۔ اس شہر کی ایک پہچان وہ تاریخی نہر بھی ہے جو دہائیوں سے لاہور کے سینے پر ایک نیلگوں لکیر کی مانند بہتی آ رہی ہے۔ یہ نہر صرف پانی کا راستہ نہیں بلکہ لاہور کی تاریخ، خوبصورتی، ماحول اور شہری زندگی کی علامت ہے۔ آج یہ نہر لاہور کو دو حصوں میں تقسیم کرتی دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ شہر کے دو حصوں کو جوڑنے والی ایک تہذیبی رگ کے طور پر بھی اپنا حصہ ڈالتی نظر آتی ہے۔
اس نہر کی بنیاد برصغیر کے قدیم آبپاشی نظام سے جڑی ہوئی ہے۔ مال روڈ سے لے کر جیل روڈ، گلبرگ، دھرم پورہ اور دیگر علاقوں تک اس کے کنارے لاہور کی ترقی کے گواہ بنے۔ لاہوریوں کے لئے یہ نہر گرمیوں میں آب حیات سے کم نہیں تھی۔ ہمارے ہاں پتہ نہیں کیوں افسر شاہی ایسا حکم نامہ جاری کرتے ہیں۔ جس میں خوف کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔ اب اس نہر پر نہانے پکنک منانے کی سرکاری سطح پر ممانعت ہے۔ دنیا ایسے پوائنٹس سے سیاحت کو فروغ دیتی ہے۔ حکومت کے لئے کمائی کا ذریعہ بنتی ہے۔ اگر اس نہر کو سیاحتی مقام کی طرز پر جدید خطوط پر استوار کیا جائے تو لاہور کی سطح پر حکومت کے لئے یہ ایک کماؤ پتر بن سکتی ہے۔ پر شرط ایک اس کو افسر شاہی کے ہاتھ میں نہ دیا جائے۔ بلکہ موبائل ایپ کے ذریعے اس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بنایا جائے جو کہ ایک خود کار نظام پر مبنی ہو اور اس کی ٹکٹ کی کمائی........
